وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ لوگ ہتک عزت کا کیس برطانیہ میں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بول نیوز کے پروگرام ’تبدیلی‘ میں سینیئر اینکر پرسن ڈاکٹر دانش کے ساتھ گفتگو میں وزیر اطلاعت عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہتک عزت کے کیس میں بہت وقت لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے بانی پی ٹی آئی پر ہتک عزت کا مقدمہ کیا تھا، ان کے مقدمے کو 4 سال ہو گئے ہیں، بانی پی ٹی آئی کبھی وکیل بدل لیتے ہیں اور کبھی وکیل پیش نہیں ہوتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قانون میں عملدرآمد سے متعلق جو کمزوریاں تھیں ان کو دور کیا گیا ہے اور قانون میں اسپیشل کورٹس کا سسٹم دیا گیا، عدالتوں کے پاس پہلے ہی بہت کیسز ہیں الگ سے عدالت ہو گی تو فیصلوں میں آسانی ہو گی۔
سینئیر تجزیہ نگار اور اینکر پرسن ڈاکٹر دانش کے ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا کہ میں حکومت کا ترجمان ہوں، عدالت کا ترجمان نہیں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدرٹرمپ کو سزا ہو گئی لیکن سائفر لہرانے والے کو نہیں ہوئی، ریاستی اداروں پر حملہ کرنے والے کو سزا نہیں ہوئی جن عدالتوں میں یہ کیسز زیرسماعت ہیں ان کو جلد فیصلہ دینا چاہیے، تمام ثبوت سامنے ہیں کہ کیسے منصوبہ بندی ہوئی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ 9 مئی پر جلد فیصلہ دیں، 9 مئی پر جلد فیصلہ ہو ورنہ ملک کا خدا حافظ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائمقام چیئرمین ٹوئٹ سے انکاری ہیں، بانی پی ٹی آئی اپنا ٹوئٹر بند کیوں نہیں کرواتے؟۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے شہزاد اکبر اور فرح گوگی کوبھگایا، کابینہ میں بند لفافہ کھولا نہیں گیا تھا، بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نےحکومت میں شمولیت کاعندیہ نہیں دیا، پاکستان اب تنہائی سے نکل گیا ہے، کئی ممالک نے سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، چند ماہ میں کئی معاہدے ہونے والے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مزید کہا کہ کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی بہترین چل رہے ہیں، نوازشریف سے صدارتی عہدہ چھینا گیا۔



















