وزیر توانائی سندھ ناصر شاہ نے کہا ہے کہ جلد از جلد عوام کو مفت اور سستی بجلی فراہم کریں گے۔
ناصر شاہ کی ورلڈ بینک کے ٹیکنیکل مشن کے ایک وفد سے ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی محفوظ قاضی و دیگر بھی موجود تھے۔
ملاقات میں وزیر توانائی سندھ کا کہنا تھا کہ تین مختلف مراحل میں 172 پبلک سیکٹر بلڈنگز کو سولرائیزیشن پر منتقل کیا جائے گا، اس کے ذریعے 47 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سولرائزیشن کے حوالے سے پہلے مرحلے میں 34 پبلک سیکٹر کی عمارتوں کی سولر پینل کے ذریعے 21.7 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے، دوسرے مرحلے میں جوکہ 3.30 میگاواٹ 2024 تک مکمل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 23 سرکاری عمارتوں کو 10 میگاواٹ بجلی سولر پینلز کے ذریعے فراہم کی جائیگی، اسی طرح تیسرے مرحلے میں جولائی 2024 سے 100 سرکاری عمارتوں کو سولرائیزیشن کے ذریعے 15 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
ناصر حسین شاہ کے مطابق 4 میگاواٹ کا فلوٹنگ سولر حیدرآباد قاسم آباد کے ٹریٹمنٹ پلانٹ پر لگایا جائے گا۔
وزیر توانائی سندھ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پارٹی منشور اور ہدایات کے مطابق سولرائیزیشن کے ذریعے جلد از جلد عوام کو مفت اور سستی بجلی فراہم کرنا ہے، حکومت سندھ کی توجہ سولرائزیشن کے عمل کی رفتار کو زیادہ سے زیادہ تیز کرنے پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 100 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والے غریب صارفین کو مرحلہ وار سولرائیزیشن کے ذریعے مفت بجلی فراہم کرنے کیلئے محکمہ توانائی سندھ کوشاں ہے۔
ورلڈ بینک ٹیکنیکل مشن کے وفد نے سولر انرجی پروجیکٹ کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔



















