سندھ میں ممکنہ سیلابی خطرے سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات نہ کرنے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی ہے۔
یہ درخواست ایڈووکیٹ محمد خان نے دائر کی ہے جس میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری آبپاشی دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی، جبکہ سماعت 20 جون کو ہوگی۔
درخواست گزار وکیل محمد خان نے مؤقف اپنایا کہ سندھ میں ایک بار پھر سیلاب کا خطرہ بتایا جا رہا ہے، جبکہ رواں برس 2022 سے بھی زائد بارشوں کو امکان ظاہر کیا گیا ہے، لیکن تاحال انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔
وکیل محمد خان نے درخواست میں لکھا کہ حفاظتی بند بھی کمزور پڑے ہیں، جبکہ ایمرجنسی کیلئے کوئی نظام تک متعارف نہیں کرایا گیا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے یہ بھی لکھا کہ 2022 اور 2010 کے سیلاب متاثرین اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے ہیں، جبکہ اگر ایک بار پھر سیلاب آیا تو بڑی تباہی آسکتی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اس تباہی سے بچنے کیلئے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے نے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔
وکیل محمد خان نے درخواست میں لکھا کہ سندھ حکومت نے اب تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں، جبکہ بتایا جائے کہ سیلاب اور بارشوں سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے۔



















