چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری، ترقی و خوشحالی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تحت دو روزہ آل پاکستان چیمبرز آف کامرس پریزیڈنٹس کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔
کانفرنس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، قیصر احمد شیخ، چیئرمین یو بی جی ایس ایم تنویر، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرم، صدر آئی سی سی آئی احسن بختاوری لاہور، کراچی، رالپنڈی، سیالکوٹ سمیت ملک بھر کے 70 سے زائد چیمبرز آف کامرس کے صدور و عہدیداران شریک ہوئے۔
کانفرنس کے اختتام پر ملکی معیشت کو درپیش مسائل، ٹیکس اصلاحات، ریجنل کنیکٹیوٹی سمیت اہم ترین معاشی موضوعات پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جو چیئرمین سینٹ، وفاقی وزراء کو پیش کیا گیا جبکہ چیمبر مشترکہ اعلامیہ وفاقی حکومت، قومی اسمبلی، سینٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ فورمز تک پہنچائے گا۔
کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے موضوعات پر سیمینارز بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ایسے مواقعوں سے ہمِیں معیشت کو درپیش مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔ ہماری معیشت ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے۔ہمارے فیصلوں کے دور سے نتائج مرتب ہونگے۔ افراط زر نے متوسط طبقے کی فلاح و بہبود پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت تقریبا ایک دہائی تک جمود کا شکار رہی ہے۔ملک میں شرح سود میں اضافے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اور صنعتوں کا بقا خطرے میں پڑ گیا ہے۔ در آمدات پر بڑے پیمانے پر پاپندیوں کی وجہ سے معیشت کے فروغ میں مسائل سامنے آئے۔اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔یہ رجحان مزید مستحکم اور حوصلہ افزائی کا متمنی ہے۔ توانائی کا بحران اور خاص طور پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ موثر حکمت عملی کا تقاضہ کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامل محدود سرمایہ کاری، فی کس آمدن میں کمی، بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا باعث بن رہے ہیں۔ملک کی معیشت کی بحالی کے لئے جامع اور پائیدار ترقی کا فروغ ناگزیر ہے۔ قرضے لے کر سرمایہ کاری بڑھانے کے طریقہ کار کی تجاویز کو بدلنا ہوگا۔ ادائیگیوں کے توازن کو حکمت عملی کے تحت بہتر بنانا ہوگا۔ پاکستانی قوم فطری طور پر ہوشیار اور باصلاحیت ہے۔ جتنی زیادہ ملک میں سرمایہ کاری و تجارت ہو گی اتنا ہی ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں بہتری ہو گی۔
کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، موجودہ بجٹ پر لوگ تنقید اور تقریر کرسکتے ہیں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں معیشت کی بہتری کیلئے برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی، گزشتہ حکومت میں ہم نے پانچ ترجیحات پر کام کیا، پانچ ترجیحات پر کام کر کے ہم پاکستان کو مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کو ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معیشت کی جیت کے لیے دو کیچ چھوڑ دیئے۔سی پیک پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا کیچ تھا۔
شہزاد اکبر نے اعتراف کیا کہ لیگی رہنما پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے،سی پیک کے منصوبوں میں 70 ارب روپے کی کرپشن کا جھوٹا مقدمہ بھگت رہا ہوں، چین سی پیک کو پہلے سے زیادہ سرمایہ کاری لانا چاہتا ہے۔
تقریب سے خطاب میں چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ و سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے کہا کہ وہ لوگ جو ٹیکس دے رہے ہیں انہی پر بوجھ کر بڑھایا جارہا ہے، سی پیک فیز ٹو میں اقتصادی زونز بنیں گے وہاں سرمایہ کاری کیسے ہوگی، آئی پی پیز نے ملک کو لوٹا ہماری نسلوں کر برباد کردیا ہم ان کو تحفظ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو معلوم ہے ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جارہا ہے، ہم اپنی نااہلی کی وجہ سے کاٹن کی پیداوار کو تباہ کررہے ہیں، مصیبت یہ ہے کہ پاکستان میں چوروں کو تحفظ دیا جارہا ہے،ان لوگوں کو تحفظ دیا جارہا ہے جو معاشی تباہی کا باعث ہیں ہمارا ملک بہت اچھا ہے اس میں بہت پوٹینشل ہے،آئی سی سی آئی کی جانب سے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر صدر اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
کانفرنس سے خطاب میں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ فیڈ ریشن نے بجٹ میں حکومت کو بزنس کمیونٹی کی طرف سے مکمل معاونت کی، ہم امید کرتے ہیں بزنس کمیونٹی کے تحفظات اور تجاویز کو مد نظر رکھا جائے گا، پاکستان یک طرفہ پالیسی سازی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسلام آباد چیمبر کی یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے کونے کونے سے آئے بزنس کمیونٹی کے نمائندے ملکی ترقی ،ٹیکس کی آدائیگی اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کے ساتھ ہیں۔
صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احسن بختاوری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد معیشت کے حوالے سے بزنس کیمونٹی کے ساتھ مشاورت کرنا ہے۔ حکومت پاکستان کو بزنس کیمونٹی کی قیادت کو مشاورت میں شامل رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو نقصان زدہ سرکاری ادارے ہیں ان کی نجکاری کی جائے۔بزنس کمیونٹی میں ایسے لوگ ہیں جو ان اداروں کر بہتر چلا سکتے ہیں، اسی ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے جو ٹیکس دے رہا ہے، صنعتوں کی پیداوار میں نمو اسی وقت ہوگی جب توانائی کے نرخ مسابقتی ہونگے۔وزیر اعظم سے ملاقات میں کمرشل اتاشیوں میں بزنس کمیونٹی کی نمائندگی پر بات کی، بزنس کمیونٹی کا نمائندہ ایف بی آر میں ممبر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بزنس کمیونٹی کو اپنا شراکت دار سمجھنا چاہیے۔اسلام آباد میں بننے والے فائیو سٹار ہوٹلز کے سامان کی درآمد نہیں ہوسکی، وزیر تجارت سے ملاقات میں درخواست کی ہے ہوٹلز کیلئے سامان کی درآمد کی اجازت دی جائے۔ پورٹس پر موجود پر سامان کے ڈیمریجز چارجز معاف کئے جائیں، گوادر پورٹ کو آٹ سورس کرنے کیلئے بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کیا جائے،چین نے گوادر پورٹ کو چلانے کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چینی صنعتیں پاکستان میں لگیں گی۔چینی سرمایہ کاروں اور پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کیلئے بزنس کمیونٹی پر بوجھ نہ ڈالا جائے،کاروبار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔



















