سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حیران کن انکشافات کردیئے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں رؤف حسن کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، ان کی گرفتاری سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف عزم استحکام آپریشن اچھی بات ہے، شہبازشریف نے غیر سنجیدگی سے عزم استحکام کا اعلان کیا، پی ٹی آئی کے دور میں کوئی آپریشن نہیں ہوا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی پالیسی سیاسی اسٹریٹجی پر مبنی تھی، عمران خان کا 3 سالہ دور پاکستان کے پرامن ترین 3 سال رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری بار پی ٹی آئی کو اتنی بڑی اکثریت دی ہے، مسلم لیگ ن پورے پاکستان میں ختم ہو گئی ہے، اب تو پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن ختم ہوچکی ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں سیاست میں تلخیوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے، باہر سے پراپیگنڈا کرنے والوں کا بانی پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فوج پاکستان کیلئے میرے سے بھی زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بغیر آپ پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں لاسکتے اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی پولیٹیکل اسٹریٹجی بن سکتی ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر میں نے پی ٹی آئی کو چھوڑا ہوتا تو آج میں ایک وفاقی وزیر ہوتا، ہم نے قیدوبند کی صعبتیں برداشت کی ہیں، میرے اوپر آج بھی47 کیسز ہیں، ہم نے کبھی بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کی بات نہیں کی، ہم پی ٹی آئی میں تھے، ہیں اور رہیں گے۔



















