کشمیری حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں جو بھی ہندوستان کے الیکشن کےساتھ ہیں وہ حریت سے نہیں۔ کشمیر متنازع علاقہ ہے ان کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد، جموں وکشمیرشاخ کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں نیوزکانفرنس کی، حریت رہنما فاروق رحمانی نے کہا کہ ہندونسل پرست بھارتی جنتا پارٹی نے اپنی گھوڑے کس لیے ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی پانچ اگست 2019 کے بعد الیکشن کا ڈرامہ کیا ہے۔
فاروق رحمانی نے کہا کہ ان سالوں میں کشمیروں پرمظالم ڈھائے گئے۔ نئی حلقہ بندی اپنی من مانی سے کرائی گئی۔ پرانے ڈومسائل ختم کرکے نئے جاری کیے گئے۔ 39 ہزاراراضی کو غیرباشندوں کے لئے مختص کیا گیا۔ مدارسِ کو براہ راست قبضے میں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ نظام تعلیم کو ہندو کے نساب میں تبدیل کیا گیا۔ اردو ختم کرکے ہندی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ جاسوسی نظام کو کشمیریوں کے لئے بدتربنایا گیا ہے۔ صحافیوں کو ہراساں کرکے قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ گرفتاری اور جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو قید کیا گیا ہے۔ بے جے پی کے مظالم سے لوگ اپنے روزگارسے محروم ہوگئے ہیں۔
حریت رہنما نے کہا کہ مسلم اکثریت کو ہندواکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان عالمی قوانین کے خلاف ورزی مسلسل کررہا یے۔
حریت رہنما محمود ساغرنے کہا کہ فاروق عبداللہ اورانجینئررشید کا ایک ہی مؤقف ہے، بھارت کے بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں۔ بھارت فلموں کے ذریعے مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں کو مرعوب نہیں کرسکتا۔ اس وقت بھی دس لاکھ فوج کشمیرمیں موجود ہے، نوجوان آج بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 25سالوں سے ہمارے نوجوان جیلوں میں ہیں، انکے خاندان والوں کو ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، کشمیر میں الیکشن 1951 سے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کے قوانین کو پامال کیا جا رہا ہے، دنیا سمجھتی ہے کشمیر کا مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ میں ہے، کشمیر متنازع علاقہ ہے ان کا فیصلہ ابھی باقی ہے، ہم کبھی جبری رشتے نہیں چاہتے۔
پرویزاحمد شاہ نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا ہماری آواز کو دنیا تک پہنچائے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی حریت کانفرنس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، ہماری ساری قیادت اس وقت جیل میں ہے، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں جو بھی ہندوستان کے الیکشن کے ساتھ ہیں وہ حریت سے نہیں، یہ لوگ صرف حریت کا کندھا استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنا حق ملنا چاہیے ایک اچھے مستقبل کیساتھ چاہیے، کشمیر میں دس لاکھ فوجی کیا کر رہے ہیں؟ یاسین ابھی بھی پھانسی کا انتظار کر رہے ہیں، ہمارے سارے لیڈرتہار جیل میں قید ہے، جو آواز سری نگرسے آنی چاہیے تھا وہ ہم اسلام آباد سےکررہے ہیں۔
پرویزاحمد شاہ نے کہا کہ عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کانوٹس لے، مقبوضہ کشمیرمیں تمام حریت قیادت گھروں میں نظربند ہے، غلط تاثردیاجارہاہےمقبوضہ کشمیرمیں حالات معمول کےمطابق ہیں۔



















