Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کاش جادو کی چھڑی ہوتی کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں نوکری ہوتی، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ کاش جادو کی چھڑی ہوتی کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں نوکری ہوتی۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے زرعی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کام کر کے عوام کے سامنےآتی ہوں، قلیل مدت میں اسکیم بنی، اس پر عملدرآمد بھی شروع ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے نعرے لگانے والے بہت آئے، سیاست ہم سب کی زندگی کا حصہ لیکن اسے بدنام کیا گیا ہے، نوجوانوں کے نعرے لگانے والے بڑے آئے بڑے دیکھے، جب کوئی نوجوانوں کو استعمال کرتا ہے بات کرتا ہے تو اسے دیکھیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کوئی ایک نوجوان بتا دے جس کو میرٹ پر نوکری نہ دی گئی ہو، پارٹی کی ناراضی مول لی لیکن میری کابینہ میں 75 فیصد نوجوان ہیں، اچھی سیاست نہ کی تو ملک آگے نہیں بڑھے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آپ میں سے کوئی نوجوان کہہ دے کہ یہ سفارش پر آیا ہے، ایک نوجوان کھڑے ہو کر بتا دے کہ کسی کو گزشتہ 6 سال میں میرٹ پر نوکری ملی ہو، میری کیبنٹ میں بیشتر نوجوان ہیں، نوجوان کو 60 ہزار ماہانہ پر نوکری ملی ہے، 60 ہزار تھوڑا ہے، یہ ایک آغاز ہے، میں حلفاً کہتی ہوں ایک بھی نوکری میرٹ کے خلاف نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں لسٹ لگیں، میں نے پورے پراسس کو خود دیکھا، ہم سیاسی لوگ ہیں مجھے سفارشیں آتی ہیں، پاکستان کے سب سے بڑے کسان پیکج پر عملدرآمد کا اعلان کرنے جارہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں 6 ماہ کی قلیل مدت میں کسان پیکج تیار کیا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آج صبح نواز شریف کے پاس ایک سفیرملاقات کرنے آئے تھے، سفیر نے پوچھا آپ ملک میں سیاسی انتشار کو کیسے دیکھتے ہیں، نوازشریف نے جواب دیا ہم اسی سیاسی انتشار میں بڑے ہوئے ہیں، نوازشریف نے کہا یہ ہمارے لیے کوئی بڑی یا نئی بات نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہے میں بھی جاؤں کسی اور صوبے میں جا کر جلاؤ گھیراؤ کروں، آپ کو جس کا نعرہ لگانا ہے لگائیں لیکن ضرور سوچیں کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے، بھڑکیں لگانا جلاؤ گھیراؤ کرنا آسان ہے

انہوں نے کہا کہ کام کوئی کرنا نہیں گالی نکالنی ہے، یہ بہت آسان کام ہے، پہلے بحث ہوتی تھی کہ ملک نے کتنی ترقی کرلی ہے کیا منصوبے بن گئے ہیں، آج کیا بحث ہوتی ہے کہ کس نے کتنی اونچی آواز میں گالی نکالنی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میں جس اسپتال جاتی ہوں خیبرپختونخوا کے مریض ملتے ہیں، ہم نے ہارٹ سرجری پروگرام شروع کیا، ایک ہفتے کے اندر اندر 100 سے زائد بچوں کی سرجریاں کیں، اکثر بچوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا، آپ کی پوری توجہ ہے کہ کس طرح مخالف پرحملہ آور ہونا ہے۔

 وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت کا ایک پروسیس ہوتا ہے، اس کے مطابق چلتی ہے، تڑپتی ہوں کاش جادو کی چھڑی ہوتی کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں نوکری ہوتی، سیف سٹی پروجیکٹ میں جدت لائے ہیں، پینک بٹن متعارف کرانے جا رہے ہیں، ایک کلک پر پولیس پہنچ جائے گی، کوئی حکومت بتا دے جس نے بچیوں کی حفاظت کیلئے قدم اٹھایا ہو۔

متعلقہ خبریں