وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمارا معاشی مرکز صرف اور صرف ایکسپورٹ ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت کراچی کی بندرگاہوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں سیکریٹری بحری امور، سیکریٹری ریلوے، منصوبہ بندی کمیشن کے ارکان اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 77 سالوں میں ایکسپورٹ پر مبنی اقتصادی پالیسی نہیں اپنا سکا، ہمارا ویژن 2010 اور ویژن 2025 سیاسی حادثوں کا نشانہ بنا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم ایکسپورٹ پر مبنی معیشت کی طرف سفر شروع کر چکے ہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام کے ذریعے پاکستان کو 3 سال کے لئے انشورنس پالیسی مل گئی ہے، پوری قوت کے ساتھ ہمیں اقتصادی ترقی کو اپنا ایمان بنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گروتھ اسٹریٹجی میں زرمبادلہ کا مرکزی کردار ہوگا، دنیا میں ہر کامیاب ملک زرمبادلہ کو بڑھا کر اقتصادی ترقی کر رہا ہے، گوادر، کراچی، چابہار اور بن قاسم بندرگاہوں کو دنیا ایک سنہرے موقع کے طور پر دیکھے، وزارت سمندری امور کو اپنا سکوپ بڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ سمندری امور سے متعلق پالیسی کا جامع فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے، پاکستانی مال کو پاکستانی بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک تک پہنچایا جائے، ہمارا معاشی مرکز صرف اور صرف ایکسپورٹ ہونا چاہیے، اگر ہم نے حالیہ آئی ایم ایف معاہدے سے فائدہ نہ اٹھایا تو آئندہ ہمیں مزید اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بندرگاہیں بین الاقوامی درجہ بندی میں اپنے علاقائی حریفوں سے پیچھے ہیں، پاکستانی بندرگاہوں کو دنیا کی 50 بہترین بندرگاہوں میں شامل کرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اقتصادی استحکام کے لیے مضبوط لاجسٹک انفراسٹرکچر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، بندرگاہوں کی کارکردگی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اور کلیئرنس میں تاخیر کے خاتمے کے لیے وزارت سمندری امور ایکشن پلان بنائے۔



















