مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ صوبہ سندھ پر ایک ہزار ارب سے اوپر کا قرض ہے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ دو سال پہلے پاکستان کا مجموعی قرض 43 ہزار ارب روپے تھا، پی ڈی ایم حکومت کے دو سالوں میں پاکستان کا قرض 70 ہزار ارب روپے پر پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کا قرض صرف ساڑھے چھ سو ارب روپے ہے، خیبرپختونخوا کے ساڑھے 6 سو ارب قرض کو 3 ہزار ارب بتایا جا رہا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ 2030 میں خیبرپختونخوا کا قرض 3 ہزار ارب ہو جائے گا ۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو نہیں پتا کہ 2030 میں کتنا قرض ہوگا پھر میڈیا کو کیسے پتا، خیبرپختونخوا پر 630 ارب روپے کا قرض نہ ہونے کے برابر ہے، میڈیا پر سندھ اور پنجاب کا قرض کیوں نہیں بتایا جا رہا، صوبہ سندھ پر ایک ہزار ارب سے اوپر کا قرض ہے، اسکے علاوہ قرض کے پیسوں سے گندم خریدی ہے جو تقریبا 500 ارب ہے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ پنجاب پر 17 سو ارب کا قرض ہے اسکے علاوہ ایک ہزار ارب روپے گندم کے دینے ہیں، سندھ پر پنشن بقایاجات 6 ہزار روپے جبکہ پنجاب پر تقریباً 10 ہزار ارب روپے ہیں، 2022 میں پہلے پنشن اصلاحات کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے پنشن بقایاجات 4 ہزار ارب روپے سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے قرض اتارنے کیلئے اکاؤنٹ بنا دیا ہے، اس اکاؤنٹ کے ذریعے اگلے 10 دنوں میں خیبرپختونخوا کے مکمل قرض کی 5 فیصد ٹوکن ادائیگی کر دی جائے گی۔

















