نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ارسا ایکٹ میں ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی، سندھ اسمبلی نے ارسا ایکٹ کے خلاف قرار داد منظورکی۔
صوبائی صدرپاکستان پیپلزپارٹی سندھ نثارکھوڑو نے لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل شرعی عدالت بن سکتی ہے تو آئینی عدالت کیوں نہیں بن سکتی؟ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، وہاں اپیلیں سنی جاتی ہیں۔
نثار کھوڑونے کہا کہ پیپلزپارٹی 58 ٹوبی کو کو ختم کرنے کے حق میں ہے، نوازحکومت کو دو تہائی اکثریت ملی تھی لیکن انہوں نے 58 ٹو بی کو ختم نہیں کیا، آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اسی لیے مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتیں ہوئیں جوکہ ابھی بھی جاری ہیں۔
پیپلزپارٹی سندھ کے صوبائی صدرنے کہا کہ ہم آئینی ترمیم کے لیے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں، عدالتی اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم ناگزیرہے، آئینی ترمیم سے سپریم کورٹ پر دبائو میں کمی آئے گی اورعدالتی نظام مستحکم ہوگا۔
نثار کھوڑونے کہا کہ 2008 میں کی گئی اٹھارہویں ترمیم کے مکمل نقاط پرآج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا، پانی کے متعلق ارسا ایکٹ خطرناک ہے جس میں فیصلہ ہی نہیں ہوپایا کہ کوٹری بیراج سے ڈائون اسٹریم کتنا پانی چھوڑنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ارسا ایکٹ کی شق 6 میں لکھا ہوا ہے کہ صوبوں کو اختیار ہوگا کہ وہ پانی جمع کرنے کے لیے ڈیم بنا سکتے ہیں اسی لیے ہم پر کالا باغ ڈیم تھوپا گیا، سندھ اسمبلی نے ارسا ایکٹ کے خلاف قرار داد منظورکی۔
انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ارسا ایکٹ میں ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پانی کی منصفانہ تقسیم پر عملدرآمد کیا جائے۔
نثارکھوڑونے مزید کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں سال 2017 سے ابتک 2 ہزار 9 سو آڈٹ پیرا پیںڈنگ تھے، گزشتہ دو ماہ میں 2 سو آڈٹ پیرا سیٹل کیے گئے ہیں جس سے رکوری میں اضافہ ہوا ہے، ایم ڈی کیٹ ٹیست پبلک پٹیشن اور شکایت ہے اسے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں داخل کیا جانا چاہیے۔



















