Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے ساجد طوری اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں خارج کر دیں

این اے 37 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے کیس میں سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے ساجد طوری اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں خارج کر دیں۔

عدالت نے ایم ڈبلیو ایم کے حمید حسینی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن برقراررکھا، ساجد طوری اورالیکشن کمشین کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئیں۔

سپریم کورٹ نے پی کے 99 بنوں، پی کے 78 پشاورمیں بھی دوبارہ گنتی کی درخواست خارج کر دی۔

سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ فیصلوں کیخلاف اپیلیں دائر کرنے پر الیکشن کمیشن کی سخت سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیوں فریق بن رہا ہے؟ امیدواروں کو آپس میں لڑنے دے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیوں اپنی ساکھ خراب کر رہا ہے؟ کیا عدالت الیکشن کمیشن کےخلاف سخت احکامات جاری کرے؟

وکیل ای سی پی نے مؤقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے دوبارہ گنتی کے اختیار پر قدغن لگائی، اس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ نتائج مرتب ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کا اختیارختم ہوجاتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نےریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن پہلے کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے پھرکہتا گنتی دوبارہ کرو،  اگر درخواستیں زیر التوا تھیں تو کامیابی کے نوٹیفکیشن ہی کیوں جاری کیے، نوٹیفکیشن کسی عدالتی حکم پر ہوتے تو بات اور تھی۔

جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آراوپرالزام لگایا کہ پچھلی تاریخوں میں دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کی، الیکشن کمیشن ریکارڈ سے ثابت کرے کہ درخواست گزشتہ تاریخ میں مسترد ہوئی۔

ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے بتایا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست 9 فروری کو دی گئی تھی، اس پرجسٹس نعیم افغان نے کہا کہ امیدوارخود کہہ رہا ہے کہ ریٹرننگ افسر تک درخواست 12 فروری کو پہنچی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہوچکے اب الیکشن ٹربیونل سے رجوع کریں۔

وکیل درخواست گزارنے مؤقف اپنایا کہ ٹربیونل میں اپیل کرنے کا قانونی وقت ختم ہوچکا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ٹربیونل مناسب سمجھے تو قانون کے مطابق درخواست پر سماعت کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

متعلقہ خبریں