اسلام آباد: جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے آئینی ترمیمی بل کو موخر کرنے کا مطالبہ کردیا۔
سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ آئینی ترمیمی بل کو موخر کردیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس کے پیش نظر آئینی ترمیمی بل کو موخر کردیا جائے، اپوزیشن سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اس موقع پر احتجاج نہ کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس سی او کانفرنس تک اپنے اختلافات کو بھلادیں، آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت کیوں عجلت کا مظاہرہ کررہی ہے؟، آئینی ترمیم اس قابل نہیں اسے پاس یا سپورٹ کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کہا کہ آئینی ترمیم پر حکومت کے ساتھ نہیں چلیں گے، 24 گھنٹے میں کیسے بل پاس کریں؟ جلد بازی ہمیں قبول نہیں۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلق عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سیل پرچیز کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، آرٹیکل 63 اے کے فیصلے پرمیچ فکسنگ نہیں ہونی چاہیے، عدالتوں فیصلوں سے حکومتیں پہلے بھی غلط فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ پاکستانی معیشت زمین بوس ہوچکی ہے اور حکومت کے پاس معیشت بہتر بنانے کی صلاحیت نہیں۔
سربراہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ اسرائیل وحشیانہ اور ریاستی دہشت گردی کررہا ہے جب کہ اسرائیلی دہشت گردی کا راستہ روکنا امت مسلمہ کا فرض ہے۔ اسرائیل نے بچوں اور خواتین سمیت 60 ہزارمسلمانوں کو شہید کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کی خاموشی تشویش کا باعث ہے، امریکہ اور مغربی دنیا اسرائیل کی پشت پناہی کررہی ہے، اسرائیل کی دہشت گردی ناقابل برداشت ہوچکی ہے اور اسلامی دنیا کی نامور شخصیات کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔



















