وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ 5 آئی پی پیز نے باہمی رضامندی سے معاہدے پر نظرثانی کی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف جارہی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی دن رات محنت کر کے کمائی پاکستان بھیجتے ہیں، یہ ایک اعتماد ہے پاکستان کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے، معیشت کی بہتری کے لیے مزید سفر طے کرنا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ ماضی کی طرح چیلنجز آئیں گے، گزشتہ7 ماہ میں جو چیلنجز درپش تھے بطور ٹیم ان کا سامنا کیا، سمندرپار پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، مہنگائی میں کمی لانے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عام آدمی نے بےپناہ مشکلات کا سامنا کیا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا عام آدمی نے سامنا کیا، عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے صبروتحمل سے مشکلات کاٹیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہیں کہ تمام مسائل ختم ہو گئے ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کا دعویٰ نہیں کیا، مسائل اب بھی ہیں، آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے، لوگوں نے ہمت وعزم سے کام لیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ گرمیوں میں ریلیف دینے کے لیے وفاق نے 50 ارب کی سبسڈی دی، ماضی میں آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ان سے منافع حاصل کر چکے، اب عوام کو کیا مل رہا ہے ہرعام آدمی کا یہی سوال ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی، صوبائی حکومتیں عوام کی مشکلات سے باخبر ہیں، عوام کو ریلیف دینے کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے کیا جا رہا ہے، ماضی میں سنگدل حکمران آیا اور کہا مہنگائی سے میرا تعلق نہیں، اس حکمران نے کہا میں آلو، پیاز، ٹماٹر کی قیمتیں کم کرنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے مجھے با ربار تلقین کی کہ بجلی کی قیمتیں کم کریں، بجلی چوری ہوتی ہے ٹرانسمیشن لائن لاسز ہوتے ہیں، آئی پی پی کے معاہدوں کے حوالے سے بہت بڑے چیلنجز ہیں، 5 آئی پی پیز نے باہمی رضامندی سے معاہدے پر نظرثانی کی ہے، بجلی صارفین کو 60 ارب روپے سالانہ فائدہ ہوگا۔



















