پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان سعدیہ امام نے کہا ہے کہ شادی کے بعد شوہر نے شوبز میں کام کرنے سے روک دیا تھا۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف اداکارہ و میزبان سعدیہ امام نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے ڈاکٹر لڑکیاں شادی کے بعد کام چھوڑ دیتی ہیں، ماں باپ اتنا پیسہ لگا کر پڑھاتے ہیں لیکن شوہر کام نہیں کرنے دیتے، ماضی میں مائیں اپنی بیٹیوں کی اچھی تربیت کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اداکارہ ہونے کے باوجود والدہ مجھے اپنے تمام رشتے داروں کی شادیوں اور دوسری تقریبات میں جانے کا دباؤ ڈالتی تھیں اور پھر مجھے نا چاہتے ہوئے بھی رشتے داروں کے ہاں جانا پڑتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہی عادت آج ہے اور میں اپنے رشتے داروں کی تقریبات میں شرکت کرتی ہوں جس سے تربیت کا پتا چلتا ہے، لیکن ایسی تربیت آج کل کی نسل میں نظر نہیں آتی، لڑکیوں کی تربیت شادی سے قبل ہی ہوجاتی تھی تاہم اب ایسا نہیں ہوتا۔
شادی کے بعد کام یا ملازمت کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین پر بات کرتے ہوئے سعدیہ امام نے کہا کہ ہمارے سماج میں ایک خاص ذہنیت ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے اور ایسی ذہنیت ٹی وی پروگراموں سمیت دوسرے ذرائع سے تبدیل ہوگی۔
معروف اداکارہ و میزبان کا کہنا تھا کہ جیسے میرے شوہر نے مجھے بطور اداکارہ سعدیہ امام پسند کیا تھا لیکن شادی کے بعد انہوں نے مجھے کام کرنے سے روک دیا، کچھ بھی نہیں تھا بس مجھے شوبز میں کام کرنے سے روکنے میں شوہر کی انا کا مسئلہ تھا۔
یاد رہے کہ سعدیہ امام نے 2012 میں پاکستانی نژاد جرمن صنعت کار عدنان حیدر سے شادی کی تھی اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے، شادی کے بعد سعدیہ امام کافی عرصے تک اسکرین سے غائب رہیں لیکن اب وہ مارننگ شو اور مختلف ٹی وی پروگرامز میں دکھائی دیتی ہیں۔




















