Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد کےالیکشن ٹریبیونل تبدیلی کیخلاف راجہ خرم نوازکی درخواست پر فیصلہ محفوظ

راجہ خرم نوازکی اسلام آباد کےالیکشن ٹربیونل تبدیلی کے خلاف درخواست پرالیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تفصیلاے کے مطابق راجہ خرم نوازکی الیکشن ٹربیونل تبدیلی کی درخواست پرچیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔  علی بخاری اورراجہ خرم نواز کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اورمؤقف اپنایا کہ پروسیڈنگ کیسے کی جانی ہےاس متعلق ایک پیراگراف پڑھنا چاہتا ہوں۔

ممبر کے پی نے کہا کہ میرا خیال ہے تین سے چارمرتبہ یہ پڑھ چکے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ نہیں نہیں آپ پڑھیں جو پڑھنا چاہتے ہیں۔

وکیل علی بخاری نے دلائل دیے کہ اب جو ترمیم شدہ درخواست آئی ہے اس میں متعصب کی جگہ اعتماد کا نہ ہونا لکھا ہے، صرف لفظ تبدل کیا گیا یے گراؤنڈزسارے وہی ہیں جو ترمیم سے پہلے درخواست میں تھے۔

وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہائیکورٹ کی فیصلے کے مطابق ٹریبونل تبدیلی کے لیے مضبوط وجوہات ہونا ضروری ہیں، ان کے ٹریبونل تبدیلی کے گراونڈزدرست ہیں نہ ہی کافی ہیں، ہائیکورٹ نے پیرامیٹرزدیے ہیں جن کے مطابق ٹریبونل تبدیل ہوسکتا ہے۔

وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ میرا یہ اعتراض ہے درخواست میں ترمیم نہیں ہو سکتی تھی، میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں ٹریبونل تبدیلی کی درخواست کیوں دائر کی گئی، پولنگ سٹیشنز نمبر 1 سے 14 تک کے فارمز 45,46 اور 47 میں کوئی غلطی نہیں، پولینگ سٹیشن نمبر 15 کے بعد ٹیمپرنگ کا آغاز ہوا، شہید اسامہ سکول میں 1400 بیلٹ پیپر جاری ہوئے ہیں، ٹوٹل ووٹ 1800 کاسٹ ہوئے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنرنے وکیل علی بخاری سے استفسارکیا کہ کیا ٹریبونل سٹنگ جج سے ٹرانسفرکیا جا سکتا ہے؟ ایک ریٹائرڈ جج اورسٹنگ جج میں کیا فرق ہے؟

وکیل علی بخاری نے جواب دیا کہ ہم نے یہ دلائل ہائیکورٹ میں دیے تھے، میری خواہش یا رائے قانون نہیں ہوسکتی۔

راجہ خرم نواز کے وکیل نے جوابی دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ قانون درخواست میں ترمیم سے نہیں روکتا، ان کی طرف سے کہا گیا ہم نے غلط زبان استعمال کی، ان کو سسٹم پر یقین نہیں ہمیں اسی سسٹم نے اختیار دیا ہے، میرا یہ خیال ہے یہ باتیں پہلے ہو چکی ہیں کمیشن کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔

ممبر کے پی نے کہا کہ آپ نے بھی تو پوری ججمنٹ یہاں پڑھی ہے، جس پر وکیل راجہ خرم نواز نے جواب دیا کہ ہمارا حق ہے قانون فالو ہو ہمیں انصاف ملے، ان کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف باتیں کی گئیں۔

متعلقہ خبریں