اسلام آباد: سینیٹ (ایوان بالا) اور قومی اسمبلی (ایوان زریں) کے اہم اجلاس آج ہوں گے جس میں اہم قانون سازی متوقع ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس آج چار بجے ہورہا ہے جبکہ قومی اسمبلی اجلاس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں انسداد دہشتگردی، ججوں کی تعداد بڑھانے اور پریکٹس اینڈ پروسیجر مجوزہ بلز کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کا سات نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2023 قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے ایجنڈے میں شامل ہے جبکہ حکومت کی طرف سے ضمنی ایجنڈے پر تین مختلف بلز منظوری کے لئے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
حکومت کی طرف سے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997میں مزید ترامیم کا بل، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھاکر پچیس کرنے کا مجوزہ بل اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترامیمی بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں مزید ترامیم کا مجوزہ بل، انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی منظوری اور ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھا کر پچیس کرنے کا مجوزہ بل ایجنڈے میں شامل نہیں، تاہم حکومت مجوزہ بلز ضمنی ایجنڈے پر لاسکتی ہے۔
قومی اسمبلی ایجنڈے میں عدلیہ کے 129 نمبر پر نیچے آنے کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس اور پی آئی اے کے کئی طیارے گراؤنڈ ہونے کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈے میں شامل ہے۔
سینیٹ اجلاس
دوسری جانب سینیٹ اجلاس کیلئے 39 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا جس کے مطابق آج کے اجلاس میں 3 نئے بل ایوان میں پیش کئے جائیں گے جبکہ 11 بلوں کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹس اور منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاسوں میں حکمران اتحاد کی حاضری پوری رکھنے کے لئے ارکان کو بروقت پہنچنے کی ہدایات دے دی گئیں، بیرون ملک ارکان پارلیمنٹ کو بھی وطن واپس بلالیا گیا، بیرون ملک دوروں پر گئے ارکان زیادہ تر اسلام آباد پہنچ گئے۔
مزید برآں ایشئین پارلیمنٹینرینز کانفرنس پر جانے کے لئے پارلیمانی وفد کم کردیا گیا، اب پارلیمانی وفد میں سینیٹ سے عرفان صدیقی جبکہ قومی اسمبلی سے مرزا اختیار بیگ شامل ہوں گے۔



















