خیبرپختونخوا حکومت کے وزراء کی تننخواہوں اور الاونسز ایکٹ میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
قرارداد پی ٹی آئی کے مشتاق غنی نے پیش کی، ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
ترمیمی بل کے مطابق کابینہ کے ہر ممبر کو سرکاری گھر نہ ملنے پر دو لاکھ روپے ماہانہ کرائے کے مد میں ملیں گے۔
پشاور میں ذاتی گھر والے وزیروں کو بھی اب دو لاکھ روپے مل سکیں گے۔
وزراء کو سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے ایک بار 10 لاکھ روپے ملیں گے، اس رقم سے وزراء تزین و آرائش فنڈز میں قالین، پردے، ائیرکنڈیشنر اور ریفریجٹر بھی خرید سکیں گے۔
وزراء عہدہ چھوڑنے کے بعد تمام خریدی گئی اشیاء محکمہ انتظامیہ کے حوالے کرنے کے پابند ہونگے۔
کے پی اسمبلی نے صوبے کے شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد منظور کرلی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران کی وجہ سے شادی ہالوں کو دس بجے بند کرنے کا پابند بنایا جائے۔
ڈپٹی کمشنرز کو سختی سے شادی ہالوں کو دس بجے بند کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔



















