Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوحہ میں او آئی سی کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا بدعنوانی سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کے انسداد بدعنوانی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دوسرے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے بدعنوانی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے فلسطین کے عوام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطین، لبنان اور شام میں اسرائیل کے جاری مظالم کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور جنگی جرائم و نسل کشی کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

اپنے خطاب میں وزیر قانون نے بدعنوانی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو مزید اجاگر کیا اور کہا کہ بدعنوانی معاشی ترقی کے لیے ایک سنگین رکاوٹ ہے اور یہ عوام کا اعتماد ختم کرتی ہے، جبکہ غربت کے خاتمے کی کوششوں میں بھی مانع بنتی ہے۔

وزیر قانون نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مضبوط قومی فریم ورک، بین الاقوامی تعاون اور انسداد بدعنوانی کے معیارات کی پابندی کو ضروری قرار دیا۔

انہوں نے او آئی سی کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں پاکستان کی قیادت پر روشنی ڈالی اور مکہ المکرمہ کنونشن کو تیزی سے حتمی شکل دینے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

پاکستان کے وزیر قانون نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ المکرمہ کنونشن احتساب اور شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بنیادی معاہدہ ہے، جس پر پاکستان نے باضابطہ دستخط کیے ہیں۔ ا

نہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی معاہدہ بدعنوانی کے طریقوں کا پتہ لگانے، تفتیش کرنے، ان پر مقدمہ چلانے اور چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بدعنوانی سے پاک مستقبل کے لیے بہتر تعاون، استعداد کار میں اضافے اور باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔

متعلقہ خبریں