اسلام آباد: پاکستان نے نیشنل ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) اور تین تجارتی اداروں پر امریکی پابندیوں کو افسوسناک اور متعصبانہ قرار دے دیا۔
8 قومی ترقیاتی کمپلیکس اور تین تجارتی اداروں پر امریکی پابندیوں کے نفاذ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں خودمختاری کے دفاع اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حالیہ پابندیاں امن و سلامتی کے مقاصد کے خلاف اور عسکری عدم توازن کو بڑھاوا دینے کا باعث ہیں، ایسی پالیسیاں نہ صرف ہمارے خطے بلکہ عالمی سطح پر اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرناک نتائج مرتب کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام 24 کروڑ عوام کا اپنی قیادت پر مقدس اعتماد ہے، عوام کا اعتماد، تمام سیاسی دھاروں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ نجی تجارتی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ماضی میں تجارتی اداروں کو شامل کرنے کی بنیاد محض شک و شبہات پر تھی اور اس کے لیے کسی ثبوت کا سہارا نہیں لیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے دعوے کے باوجود، ماضی میں دیگر ممالک کو جدید عسکری ٹیکنالوجی کے لیے لائسنس سے استثنیٰ دیا گیا، دہرے معیار اور امتیازی رویے نہ صرف عدم پھیلاؤ کے نظاموں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔



















