ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ریڈ بک کے انتہائی مطلوب بدنام زمانہ انسانی اسمگلر سمیت 4 ملزمان گرفتارکرلیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کی شناخت عمران حسین عرف مانی، محمد اعجاز، عمران ثاقب اوررضوان خادم کے نام سے ہوئی۔ ملزمان کو گوجرانوالہ اور گجرات کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔
ملزمان سادہ لوح شہریوں کوغیر قانونی طوربیرون ملک بھجوانے میں ملوث پائے گئے، ملزم عمران حسین عرف مانی لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہے۔ ملزم کا نام ریڈ بک کی انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرزمیں بھی شامل ہے۔
ترجمان ایف آئی کے مطابق ملزم انسانی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا رکن ہے۔ ملزم کے خلاف کمپوزٹ سرکل گجرات میں 6 مقدمات درج ہیں۔ ملزم نے لیبیا کشتی حادثے کے 6 متاثرین سے فی کس 24 لاکھ روپے ہتھیائے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم نے متاثرین کو وزٹ ویزے پر پاکستان سے مصر اوردبئی اوربعد ازاں لیبیا بھجوایا۔ لیبیا میں متاثرین کو سیف ہاؤسسز میں رکھا گیا اوربعد ازاں کشتی کے ذریعے یورپ بھجوانے کی کوشش کی۔ کشتی حادثے میں تمام متاثرین کی موت واقع ہوئی۔
ملزم محمد اعجازنے شہری کو اٹلی ملازمت کا جھانسہ دے کر 9 لاکھ روپے اور 900 یورو ہتھیائے۔ گرفتارانسانی اسمگلرعمران ثاقب کے خلاف 2 مقدمات درج ہیں۔ ملزم نے شکایت کنندہ کے بیٹوں کو جرمن ملازمت کا جھانسہ دے کرشہری سے 37 لاکھ روپے بٹورے۔
ملزم نے متاثرین کو جرمنی کے بجائے سعودی عرب بھجوا دیا۔ ملزم نے دیگر ساتھیوں کی مدد سے سعودی عرب میں متاثرین پر تشدد کیا اور بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے رہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم رضوان خادم نے متاثرہ کو اسپین ملازمت کی غرض سے بھجوانے کے لیے 27 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزم متاثرہ کو بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہا اور بھاری رقوم وصول کرکے روپوش ہو گیا تھا۔



















