وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ اسلامی دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔
اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے، اور اسلامی دنیا بھی ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے ان چیلنجز کا سامنا کرنے اور اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات لینے کی ضرورت ہے.
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ملت اسلامیہ کے لیے ایک ماڈل ہے، ہمیں اپنی شناخت برقرار رکھنی ہے کیونکہ ہم فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جب میں نے تعلیم کی وزارت سنبھالی تو اعداد و شما انتہائی افسوس ناک تھے۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ملک دین کے نام پر خاص مقصد کے لیے بنایا گیا، دین کے نام پر بنے ملک میں تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ایمرجنسی کی صورتحال میں ہے۔
پاکستان کی آدھی آبادی خواتین کی ہے، میڈیکل کالجز میں زاہدہ تر تعداد خواتین کی ہے، زیادہ تر گولڈ میڈلز بھی طالبات لے رہی ہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور پورے عالم اسلامی کی توجہ طالبات کی تعلیم پر مرکوز کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، اس ضمن میں میں حکومت اور پوری دنیا سے بھرپور سپورٹ ملی، او آئی سی کے 57 ممالک کے علاوہ 140 سے زیادہ سفارتی حکام شرکت کریں گے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نئے دور کے لیے تیار ہے، پاکستان میں ہر طرح کی صلاحیت ہے، ایک اور بہت بڑی اور بامقصد اور فیصلہ کن کانفرنس کرنے جارہے ہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پوری اسلامی دنیا میں طالبات کی تعلیم کے حوالے سے ہو گی، اس میں علماء ، پروفیسرز ، وزرائے تعلیم اوور سفارتی حکام بھی شرکت کریں گے۔



















