پاکستان نے نارویجین ریفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل جان ایگی لینڈ کی جانب سے افغانستان کی انسانی صورتحال پر توجہ مبذول کرانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ بات زیادہ مناسب ہوتی اگر عالمی برادری جنگ کے خاتمے کے بعد افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑتی اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مناسب حالات پیدا کیے جاتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو واپس بھیجا گیا جبکہ قانونی اور دستاویزی افغان مہاجرین کے لیے پاکستان ہمیشہ معاون رہا ہے۔
ترجمان نے افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی امداد میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے امدادی پروگرام کو درکار فنڈز کا صرف 37.5 فیصد ہی مہیا کیا جا سکا، جو افغانستان میں موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بناتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کی ہر ممکن کوشش کا حامی ہے اور خطے میں خوشحالی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کی مدد کے لیے مزید وسائل فراہم کرے تاکہ افغانستان کے عوام کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔



















