چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے نان فائلرز کو 1 کروڑ روپے کی پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی۔
اسٹینڈنگ خزانہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس ہوا جس میں میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلز ٹیکس میں انڈررپورٹنگ کے باعث 4.5 ٹریلین روپے تک ٹیکس چوری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نان فائلرز کاروبار اور افراد کے خلاف ایف بی آر کے لین دین، ٹرانزکشنز پر پابندی کے اقدامات جاری ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق ماہانہ 10 کروڑ روپے بجلی بل والے غیررجسٹرڈ کاروبار کا بینک اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، 25 کروڑ سالانہ کاروبار کرنے والے کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔
بریفنگ کے دوران نوید قمر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری 50 فیصد بلیک اکانومی ہے، اس موقع پر وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کا 10 فیصد کیش سرکولیشن کیساتھ پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
حکام کے مطابق60 ہزار کاروبار ایسے ہیں جو سیلز ٹیکس میں دجسٹرڈ ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں، ایف بی آر 2008 میں جو ٹیکس اکٹھا کر رہا تھا 2024 میں بھی وہی ٹیکس جمع ہوا، انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی شرح بڑھانے کے باجود محصولات بڑھانے میں ناکام ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ ان پٹ کی ویلیو ایڈیشن پر آؤٹ آرٹیفیشنل انٹیلیجنس کے ذریعے کی جائے گی، آٹومیٹڈ رسک مینجمنٹ سسٹم کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور جلد شروع کیا جائے گا۔
دوران اجلاس چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس صرف 25 فیصد کاروبار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، ایف بی آر کو صرف 42 ہزار سیلز ٹیکس ریٹرنز موصول ہوتی ہیں، نان فائلرز پر ایک کروڑ روپے سے زائد کی پراپرٹی خریدنے پر پابندی ہو گی۔
بعدازاں کمیٹی میں ویلیو ایڈیشن پر آؤٹ پٹ ٹیکس کیلئے آٹومیٹڈ رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ نان فائلر کاروبار کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اکاؤنٹس استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، تاہم نان فائلرز کاروبار کو رجسٹرڈ ہونے پر 2 دنوں میں بینک اکاؤنٹس بحال کر دیے جائیں گے۔



















