بول نیوز کے پروگرام ’بیوپار‘ میں سینئر اینکر پرسن ارباب جہانگیر کے ساتھ گفتگو میں ویسٹ مینجمنٹ ڈائیوو کے سی ای او خالد مجید کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ اور پنجاب میں پہلی بار ایکو فرینڈلی زراعت اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی میکنائزیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط ہو گئے ہیں جس کے تحت ڈائیوو پنجاب میں ڈرائیور لیس ٹریکٹر اور روبوٹیک ایگریکلچرل ڈیوائسسز تیار کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی اعلیٰ قیادت میں پنجاب کی ترقی کے لیے بہت سے انقلابی اقدام کیے گئے ہیں، اور آپ اگر غور سے ان کے اقدامات کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام اقدامات پائیدار ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
جب ہم پائیدار ترقی کی بات کرتے ہیں تو اس میں ماحول دوست فضا اور معاشی اعتبار سے جو اقدامات ہیں وہ بھی شامل ہوتے ہیں۔
ان میں بے شمار پائیدار ترقی کے اقدامات ہیں میں صرف دو پر بات کروں گا، ان میں ایک تو ہے زراعت کیونکہ پاکستان ایک زرعی معیشت پر انحصار کرنے والا ملک ہے، تو یہاں پر مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر زراعت میں روبوٹک اور الیکٹرک وہیکلز کا استعمال بہت اہم ہے۔
کیونکہ آج کل جو روایتی زراعت ہے اس میں روایتی فوسلز کا استعمال ہوتا ہے جو کہ ماحول دوست نہیں ہے اور اگر ہم اس کو الیکٹرک مشینری پر منتقل کر دیں تو فی ایکڑ پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی، جبکہ لیبر کی ضرورت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اسی طرح حکومت پنجاب کا جو دوسرا اہم اقدام ہے وہ ستھرا پنجاب ہے، اس میں بھی بیجنگ سے تعلق رکھنے والی مصنوعی ذہانت کی کمپنی الیکٹرک ٹریکٹر بھی بناتے ہیں، کیونکہ ویسٹ مینجمنٹ میں ٹریکٹر بہت ہی خاص حیثیت رکھتا ہے، جن کا ویسٹ مینجمنٹ میں بہت اہم رول ہوتا ہے۔
خالد مجید کا کہنا تھا کہ ڈائیوو نے جو ایم او یو پر دستخط کیے ہیں اگر میں اس کو تھوڑا وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہوں تو اس ایم او یو کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
اضافی منصوبے کے مطابق ہم ایم او یو کے تحت اپنی زمین فراہم کریں گے، جہاں پر یہ کمپنی اپنی مصنوعات کی تشہیر کریں گے، تاکہ کسانوں میں آگاہی ہو کہ مصنوعی ذہانت سے مزین زراعت ہمارے ماحول اور معیشت کے لیے کتنی فائدہ مند ہے۔
ڈائیوو پہلے ہی پنجاب کی 22 تحصیلوں میں ویسٹ مینجمنٹ پر کام کر رہی ہے، اس میں کچھ ہماری بھی ضروریات ہیں، ہم چینی مصنوعی ذہانت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کوئی ایسی مشین بھی آجائے جو ویسٹ مینجمنٹ میں بھی کام آ سکے۔
کمپنی کی پروڈکٹس میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہم کمپنی کے ساتھ مل کر سیمی اور مکمل یونٹ لگائیں گے جو آنے والے دنوں میں پائیدار زراعت اور پائیدار ویسٹ مینجمنت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوں گے۔
سینئر اینکر پرسن ارباب جہانگیر کے ایک سوال کے جواب میں سی ای او ویسٹ مینجمنٹ ڈائیوو خالد جاوید کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنی معیشت میں بہتری لانی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملازمت کم ہوں مگر دوسری طرف آمدنی بڑھ جائے گی۔
جب آپ کی زراعت اسمارٹ ہو گی تو کسان کی آمدنی بھی بڑھے گی جو اسی سوسائٹی پر ہی استعمال ہو گی، لائف اسٹائل بہتر ہو گا، اسمارٹ زراعت سے وقت کی بچت کے ساتھ ماحول پر بھی سازگار اثرات مرتب ہوں۔ کچھ براہ راست اثرات ہوتے ہیں جبکہ کچھ پس پردہ اثرات ہوتے ہیں، جس میں ماحول دوست فضا سب سے اہم ہے جو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی واقع ہو گی۔
اس اقدام سے آپ اپنے صحت کے بجٹ پر آنے والے اخراجات میں کمی کر سکیں گے، اس پروجیکٹ کو بڑی اسکرین پر دیکھنے کی ضرورت ہے جو مستقبل قریب میں گیم چینجز ثابت ہو گا۔
اس پروجیکٹ میں روبوٹک سسٹم ہوں اور ڈرائیور لیس ٹریکٹر ہوں گے جو دیکھنے میں کچھ لوگوں کی ملازمت پر اثرانداز ہو گا مگر درحقیقت یہ سوسائٹی کے لیے فائدے مند ہے۔
ایک سوال کے جواب میں خالد مجید نے کہا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں پہلا قدم بہت مشکل ہوتا ہے، الحمداللہ ڈائیوو نے یہ قدم اٹھا لیا ہے تو مجھے امید ہے کہ باقی سرمایہ کار گروپس اور انویسٹرز بھی ڈائیوو کو دیکھتے ہوئے آگے آئیں گے۔
اور آپ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ اس پروجیکٹ سے پوری سوسائٹی میں مکمل تبدیلی دیکھنے کو ملے گی، آپ کے پاس توانائی کے ذرائع محدود ہیں، ڈائیوو پہلے ہی اپنی الیکٹرک بسوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ ڈائیوو کا ایک مخصوص ونگ الیکٹرک بائیکس کے اوپر کام کر رہا ہے۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں کی کسی چیز کو شروع کرنے میں بہت مشکل ہوتی ہے لیکن ایک دفعہ کوئی کام شروع ہو جائے تو پھر مزید لوگ سامنے آ جاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ جب ڈائیوو اس بزنس کو شروع کرے گی تو بہت سے سرمایہ کار گروپس اور انویسٹرز اس بزنس کی طرف آئیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں سی ای او ویسٹ مینجمنٹ ڈائیوو خالد مجید نے کہا کہ میں حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل قریب میں ایسے پروجیکٹس پر کتنی سرمایہ کاری ہو گی کیونکہ ان پروجیکٹس پر پہلے ہی بہت سے انویسٹرز اور بیرون ممالک کے ڈونرز کام کر رہے ہیں، جو پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
خالد مجید نے کہا کہ کسی بھی پروجیکٹ کی کامیابی کے لیے سیاسی تعاون کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور الحمد اللہ حکومت پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اس قسم کے پروجیکٹ کو بہت زیادہ تعاون حاصل ہے جو طویل مدتی اور پائیدار ہوں۔
سی ای او سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈائیوو خالد مجید کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ دوسرے صوبوں میں بھی اس قسم کے پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہو گا اور اگر ضرورت پڑی تو ڈائیوو دیگر صوبوں میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔



















