بول نیوز کے پروگرام نیوز پنچ میں سینئر اینکر پرسن آمنہ کھٹانہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید حفیظ الدین کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کے باوجود کے الیکٹرک کراچی کی انڈسٹریز کو مکمل بجلی فراہم نہیں کرتی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید حفیظ الدین کا کہنا تھا کہ دیکھیں بنیادی بات تو یہ ہے کہ جن عوامل کی وجہ سے کے الیکٹرک کو نجی شعبے میں دیا گیا اس پر ہمیں دوبارہ غور کرنا چاہیے کہ مسئلہ کیا تھا۔
کے الیکٹرک کو تمام رائٹس دیے گئے جس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اب ان کے مقابلے میں کوئی دوسرا گروپ آ بھی نہیں سکتا، اور ان کے معاہدے بھی ایسے ہیں جو وہ اوپن نہیں کر سکتے جس سے خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی دوسرا سرمایہ کار گروپ ان کے سامنے آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
آج آپ اٹھا کر دیکھ لیجئے ہمارے پاس جو نیوکلیئر بجلی وہ بھی مکمل استعمال میں نہیں لاتے، یہ عوام کو سہولت نہیں دیتے، مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ ہم ان پر کام کرنا شروع کریں تو پریشان ہو جائیں۔
دیکھیں ابھی آپ نے عدالتوں کی بات کی کہ عدالتیں احکامات دیتی ہیں مگر عدالتوں سے کچھ نہیں ملتا، سندھ کا کوئی بڑے سے بڑا وکیل اٹھا لیں وہ ان کے بورڈ میں شامل ہو گا۔ میں خود وکیل ہوں میں اس بات کو سمجھ سکتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کس طریقے سے مینجمنٹ کی جاتی ہے، انہوں نے ہر جگہ یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔
جب آپ ان کے کسٹمرز سینٹرز پر جائیں گے آپ حیران ہو جائیں گے کہ انہوں نے کس قسم کے گارڈز رکھے ہوئے ہیں، عام آدمی تو بے چارہ اپنی شکایت درج کرانے کے لیے اس میں داخل ہی نہیں ہو سکتا، ایسے بیشتر مسائل ہیں جن کے اوپر ہمیں غور کرنا چاہیے۔
اس کے بعد آپ نے ان کی بیلنس شیٹ کے بارے میں کہا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آڈٹ کو بھی رد کر دیتے ہیں کوئی ان کی آڈٹ نہیں کر سکتا، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ان کے ہر سیکشن کا آڈٹ ہونا چاہیے،
میں آپ کو ان کا ایک واقعہ سناتا ہوں کووڈ کے دوران ان کو کراچی میں 40 ارب روپے کی سبسڈی دینی تھی، انہوں نے صرف 7 ارب کی سبسڈی دی باقی 33 ارب کی سبسڈی پر انہوں نے کورٹ سے اسٹے لیا ہوا ہے اور آج تک یہ سبسڈی عوام کو نہیں دی، جبکہ باقی ملک میں دی گئی سبسڈی تقسیم ہو چکی ہے۔
انہوں نے پہلے کورٹ سے اسٹے لیا پھر نیپرا کے ٹریبونل میں اسٹے لیا اور اب یہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیٹھے ہیں۔
ان کے خلاف ہو کوئی عدالت میں گیا ہوا ہے، ان کے ملازمین بھی اپنے ادارے کے خلاف عدالت سے رجوع کر رہے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی ادارے کو ڈسٹرب کر کے ہم کام نہیں چلا سکتے، کام چلانے کے لیے ادارے کو صحیح راستے پر لگانا ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں سید حفیظ الدین نے کہا کہ میں افسوس کے ساتھ یہ بات کہوں گا کہ پیپلز پارٹی اتنے طویل عرصے سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے، لیکن آپ اس کی پرفارمنس کو دیکھیں گے تو پریشان ہو جائیں گے، میں سندھ اسمبلی کا بھی ممبر رہا ہوں، اس سے پہلے میں سابق وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کی کیبنٹ میں مشیر بھی رہا ہوں، میں نے یہ ساری چیزیں بہت قریب سے دیکھی ہوئی ہیں۔
میں کراچی کے سائٹ کے علاقے سے سندھ اسمبلی کا ممبر رہا ہوں وہاں 1992 میں 22 لاکھ لیبر کام کرتی تھی آج وہاں پر دو لاکھ بھی لیبر نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں پر انڈسٹریز بند ہو چکی ہیں،
کے الیکٹرک کا خاص طور پر انڈسٹریز کے ساتھ جو برتاؤ ہے وہ افسوسناک ہے، مہنگی بجلی ہونے کے باوجود انڈسٹریز کو ممکمل بجلی فراہم نہیں کی جاتی،
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں جماعت اسلامی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا، بجلی کے حوالے سے ان کی کوششوں کو میں سراہتا ہوں، لیکن ان کی کوششیں صرف سطحی ہوتی ہیں صرف میڈیا کوریج حاصل کرنے کیلیے یہ کوششیں کی جاتی ہیں۔
لیکن آپ اگر ایک ہاتھ آگے بڑھیں گے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایم کیو ایم نے کیا کیا ؟ کے الیکٹرک کے کان کھینچنے کے لیے خالد مقبول بھائی، مصطفی کمال بھائی اور فاروق ستار بھائی یہ سب تمام اداروں سے میٹنگز کرتے رہے ہیں، ہمارے لوگ باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹیز کے پاس متعدد بریفنگز لے چکے ہیں، اور اب ہم اس نکتے پر پہنچ گئے ہیں کہ آگے کرنا کیا ہے۔



















