اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 14 سال قید کی سزا کے مجرم شاہ حسین کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جس دوران عدالت نے چودہ سال قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا۔
وکیل ارشد حسین یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس بارودی مواد کا بیگ تفتیش میں کہی بھی ثابت نہیں کرسکی، ایک ٹانگ سے معذور شخص کا قصور اتنا تھا کہ اس نے لفٹ لی۔
جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ آج کے دور میں لفٹ لیتے ہوئے سوچ کر بیٹھنا چاہیے، سزا پانے والا نہ موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور نہ اس کا مالک تھا۔
دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ جو موٹرسائیکل چلا رہا تھا اسے تو چھوڑ دیا گیا، جو معذور ہے اسے سزا دے دی گئی، بچپن میں سنتے تھے کہ لنگڑا ہے لیکن بھاگتا تیز ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جب کہ شاہ حسین پر بارودی مواد کا بیگ لے کر جانے کا الزام تھا۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے 1250 گرام بارودی مواد برآمد ہونے پر چودہ سال کی سزا سنائی تھی۔



















