صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیمز کے متاثرین کو جائز حقوق دیے جائیں تاکہ وہاں پر ایک ماہ سے جاری احتجاج پرامن ختم ہوسکے۔
ایف پی سی سی آئی کے منعقدہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیساتھ وہاں کے متاثرین کا جو ایم او یو سائن ہوا تھا اس پر عملدر آمد کیا جائے اب تک وہاں کچھ لوگوں کو اس مد میں کمپنسیشن ملا ہے باقی ماندہ لوگوں کے مطالبات بھی تسلیم کئے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آمدہ بجٹ میں اپنی بجٹ تجاویز میں اس کے متعلق بھی ہم اپنا فیڈریشن لیول پر پرپوزل جمع کروائیں گے اور بھاشا ڈیم اور بنجی ڈیم کے حوالے سے جو مسائل اور تجاویز ہیں وہ بھی زیر بحث لائیں گے ۔
اجلاس میں سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی و کنونئیر سی پیک سپیشل اکنامک زون (اسلام آباد۔گلگت بلتستان)جوہر علی راکی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ متاثرین اور حکومتی لوگوں میں جو معاہدہ ہوا تھا اب ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے والی ہے جس سے 4500 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی مگر ابھی تک متاثرین کو کمپنسیشن نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ سراپا احتجاج ہیں ۔
اس کے علاوہ ایک اور بنجی ڈیم جس سے 7100 میگا واٹ بجلی بن سکتی ہے اس کے سروے بھی آخری مراحل میں ہیں اور یہ ڈیم سی پیک روٹ پر آتا ہے جہاں پر لاکھوں ڈالر انرجی سیکٹر کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
جوہر علی راکی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اگر ان دو ڈیمز پر توجہ دے تو ملک میں جاری انرجی بحران ختم ہو سکتا ہے ۔



















