وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطینی ہمدردی کے بیانات نہیں بلکہ مضبوط اقدامات چاہتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دعا گوہیں ماہ رمضان دنیا میں امن، سلامتی اورخوشحالی لائے، آج غزہ تاریک ترین دور سے گزر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ عورتوں، بچوں سمیت 48000 معصوم فلسطینی شہید کیےجا چکے ہیں، غزہ میں اسکولز،اسپتال، مکان، عبادت گاہیں، تجارتی مراکزملبے کا ڈھیربنادیےگئے ہیں، مصر اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کاوش امید کی کرن ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، غزہ میں انسانی امداد ایک بار پھر روک دی گئی ہے، رمضان المبارک میں اس طرح کا ظلم شدید قابل مذمت ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امداد کی ترسیل کو روکنا جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے، غزہ کے عوام کی بقا امداد کی ترسیل سے ہی ممکن ہے، امداد کی ترسیل کے لیے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید یہ بھی کہا کہ مغربی پٹی پراسرائیلی اقدامات جاری رہنےتک امن کا قیام ممکن نہیں، ہم اپنے الفاظ نہیں بلکہ اپنے اقدامات سے پہچانے جائیں گے۔



















