پاکستان بزنس فورم نے وزارت خزانہ کو بجٹ تجاویز 2025-26 ارسال کر دی ہیں۔
بجٹ تجاویز ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، انڈسٹری کا فروغ، کاروبار کی لاگت کم کرنا اور تاجروں پر فکس ٹیکس پر مشتمل ہیں۔
پاکستان بزنس فورم کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کے مطابق فائلرز کے لیے ایڈوانس ٹیکس سلیب میں کمی واقع کی جائے، مقامی کپاس پر اس وقت 18 فیصد ٹیکس عائد ہے برعکس درآمدی کپاس کے، بجٹ میں مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس فلفور ختم کیا جائے۔
پاکستان بزنس فورم نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مائننگ منرل سیکٹر اور گرین پاکستان انیشیٹو میں لیز کمپنیوں کو 7 سال ٹیکس چھوٹ کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری کے فروغ کے لیے کم از کم ٹیکس کو سالانہ 0.25 فیصد کیا جائے۔
پی بی ایف نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کو بجٹ میں سہولت دی جائے تاکہ معیشت میں گروتھ آسکے، اس سلسلے میں انکم ٹیکس آرڈینس میں سیکشن 7E کو منسوخ کیا جائے اور دفعہ مکان خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو ایک فیصد کیا جائے۔
پاکستان بزنس فورم نے یہ بھی کہا کہ سیکشن 8B میں ترمیم کی جائے تاکہ منیوفیکچر شعبہ بھی برآمدات میں آسکے، انکم ٹیکس ریٹ کو کمپنیز پر سالانہ 25 فیصد کیا جائے، جبکہ سپر ٹیکس پر بجٹ میں نظر ثانی کی جائے۔
پی بی ایف کے مطابق ٹیکس پیئر کو سہولت دینے کے لیے سیکشن 10 رولز 34 میں ترمیم کی جائے، تاجروں پر فکس ٹیکس لگانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ٹیکس بیس میں اضافہ ہوسکے، اس کے علاوہ بڑے تاجر پر ماہانہ 20 ہزار اور چھوٹے تاجر پر 10 ہزار ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ بجٹ میں جنوبی بلوچستان کے اضلاع کی ترقی کے لیے رقم مختص کی جائے، وفاقی حکومت نے نومبر 2020 میں جنوبی اضلاع کے لیے 540 بلین روپے مختص کیے تھے اس میں بقیہ 50 فیصد رقم بجٹ میں ریلیز کی جائے۔
پی بی ایف کے مطابق انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس پر آڈٹ چار سال میں ایک دفعہ کیا جائے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایس آر او 250- 2019 میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستان بزنس فورم نے مزید یہ بھی کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس میں کمی واقع کی جائے تاکہ پڑوسی ممالک کے پروائیٹ سیکٹر کے ساتھ مطابقت ہوسکے، فاٹا اور پاٹا کی انڈسٹری کو دی گئی ٹیکس چھوٹ بجٹ میں ختم کی جائے۔



















