Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی، گیارہویں جماعت کے نتائج پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پیش

گیارہویں جماعت کے نتائج کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں کمیٹی نے گریس مارکس دینے کی منظوری بھی دے دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نتائج آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اجاگر کیا گیا اور سیاسی جماعتوں نے عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس ایشو کو استعمال کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ دس سال میں طلبا کی کامیابی کا تناسب 47 فیصد سے کم ہی رہا ہے، جبکہ میڈیکل اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں کامیابی کی شرح 11 سے 14 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

انکوائری کمیٹی نے متاثرہ طلبا سے والدین کے ہمراہ ملاقات کی اور امتحانی ریکارڈ اور مارکنگ کے نظام کا جائزہ لیا۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، فزکس اور اسلامیات کی کتابیں تاخیر سے فراہم کی گئیں، اور فزکس کی کتاب طلبا کے لیے مشکل ثابت ہوئی۔ اس کے علاوہ، کیمسٹری، فزکس اور ریاضی کے پرچے بھی طلبا کے لیے مشکل تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اساتذہ نے خلاف قواعد کاپیاں گھر لے جا کر چیک کیں اور کاپیاں چیک کرنے والے اساتذہ کو اجرت نہ دینا حوصلہ شکنی کا باعث ہے۔

رپورٹ میں مشاہدہ کیا گیا کہ آئی ٹی سیکشن میں غلط ڈیٹا فیڈ ہونے کا امکان تھا، جس کی وجہ سے پری میڈیکل کے 35 فیصد کیسز متاثر ہوئے، جبکہ پری انجینیئرنگ میں 25 فیصد کیسز ہیڈ ایگزامنر کو بھیجے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، 64 فیصد کیسز میں ری ٹوٹلنگ کے مسائل تھے اور 74 فیصد کیسز میں بھی یہی مسائل سامنے آئے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ بورڈ کے آئی ٹی سیکشن کے سوفٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اساتذہ و عملے کی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اہم خالی عہدوں پر جلد تعیناتی کی جائے، اور ریاضی، فزکس اور کیمسٹری میں 15 فیصد گریس مارکس دیے جائیں۔

آخر میں رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ سندھ کے دیگر بورڈز کے نتائج کا بھی موازنہ کیا جائے تاکہ صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں