Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تاجروں کا 2025 عید سیل سیز ن بھی گذشتہ سالوں کی طرح انتہائی مایوس کُن رہا

آل کراچی تاجر اتحاد  کے صدر عتیق میر نے کہا کہ تاجروں نے عید سیل کے حوالے سے سال 2025کو 2024 سے بھی بدتر اور تباہ کن قرار دیا ہے۔

 ہولناک مہنگائی، معاشی تباہی  نے تاجروں کے کاروبار اور غریب و متوسط طبقے کی عید کی خوشیاں منانے کے خواب بکھیر دیے، مارکیٹوں میں رونق، چہل پہل اور گہما گہمی کے باوجود خریداری کی حوصلہ افزاء صورتحال پیدا نہ ہوسکی۔

 رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بھی تاجر خریداروں کی راہ تکتے رہے، صرف ایک سال میں عید پر فروخت ہونے والے سامان کی قیمتوں میں  40 تا 50فیصد اضافہ ہوا۔

 خریداری گذشتہ سال کے مقابلے میں  25 تا 30  فیصد کم رہی، عید پر فروخت کیلئے گوداموں میں جمع کیا گیا 60 تا 70فیصد سامان دھرا کا دھرا رہ گیا،  تاجروں کے مطابق رواں سال بمشکل 15 ارب روپے کا مال فروخت ہوسکا۔

  تباہی سے دوچار کاروبار، محدود آمدنی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں بھی نگل گئی۔

 قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی ذیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی، جبکہ بیشتر خریداروں نے خواہشات کے برعکس صرف ایک سوٹ خریدنے پر اکتفا کیا۔

 تجارتی علاقوں کلفٹن، ڈیفنس، صدر، طارق روڈ، حیدری، گلشنِ اقبال، ناظم آباد، ملیر، لانڈھی، گلستانِ جوہر، لیاقت آباد، بہادر آباد، جوبلی، جامع کلاتھ، اولڈ سٹی اور دیگر علاقوں کی 200 سے زائد مارکیٹیں عید کی روائتی خریداری کی منتظر رہیں.

 ملک میں کسی غیرمتوقع سیاسی و معاشی بحران کے اندیشوں کا شکار تاجر مال منجمد ہوجانے کے خوف سے زیادہ اسٹاک جمع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔

 موجودہ صورتحال سے تاجروں کیلئے کاروباری و گھریلو اخراجات پورا کرنا مشکل اور ادھار پر لیے گئے مال کی ادائیگیوں کے لالے پڑگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں