اسلام آباد: ورلڈ بینک نے پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کو غیر منصفانہ اور مضحکہ خیز قرار دے دیا۔
عالمی بینک کی جانب سے جائیداد اور دیگر غیر ٹیکس شدہ آمدنی کے ذرائع کو دستاویزی شکل دے کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر زور دیا گیا۔
ورلڈ بینک کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر زیادہ بوجھ صرف جامع اصلاحات سے کم کیا جا سکتا ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے کہا گیا کہ صرف پانچ ملین فعال ٹیکس فائلرز کے ساتھ ریگریسو جنرل سیلز ٹیکس پر انحصار غیر پائیدار ہے۔
ورلڈ بینک کے ماہر اقتصادیات توبیاس اختر حق نے اس حوالے سے پائیڈ کانفرنس میں اظہار خیال کیا۔



















