اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صورت حال معمول پر آگئی ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ دنیا کے اہم ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والا حالیہ تنازع مزید نہ بڑھے تاہم اس وقت خطرہ ٹلا نہیں بلکہ برقرار ہے اور ہم چوکنا ہیں۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ کسی بھی سفارتی چینل یا ذریعے سے ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی کہ پاکستان بھارت کو “فیس سیونگ” دے۔ بھارت خود آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے رجوع کر رہا ہے، اس معاملے میں ہماری پوزیشن مضبوط اور واضح ہے۔
وزیر دفاع نے ترجمان وائٹ ہاؤس کے تحمل کے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان بروقت تحقیقات کی پیشکش نہ کرتا تو دنیا بھر سے جارحانہ بیانات سامنے آسکتے تھے۔
انہوں نے امریکی سینیٹر جے ڈی وینس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے امریکی محکمہ خارجہ کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان دوست ممالک کے نمائندوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رکھا جاسکے۔



















