بم بنانے کا طریقہ سیکھنے کیلئے سوشل میڈیا ایپ کے استعمال پرنوجوان کوڈھائی سال قیداورجرمانہ عائد کردیاگیا۔
نوجوان ہوجائیں ہوشیار! بم یا دھماکا خیز مواد سے متعلق ایپس کا استعمال انہیں بڑی مصیت میں ڈال سکتاہے۔
ایسا ہی واقعہ لاہور کے نوجوان کے ساتھ پیش آیا۔ جس نے بم بنانے کا طریقہ سیکھنے کےلئے سوشل میڈیاایپلیکیشن استعمال کی تھی۔
امریکی حکام کی نشاندہی پرایف آئی اے متحرک ہوگئی اورنوجوان کو گرفتارلیاگیا۔ جو ضمانت تھا مگر اب کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیاگیاہے۔
خنان کے خلاف لاہورکی عدالت میں مقدمہ چلا۔ ملزم کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا بھی سنادی گئی۔
لاہورکی انسداددہشگردی عدلت نے جنان عبداللہ نامی نوجوان کو بم بنانے کا طریقہ سیکھنے کےلئے سوشل میڈیا ایپلیکشن استعمال کرنے پرڈھائی سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے مجرم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیاہے۔
یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے ملزم کی آن لائن سرگرمیوں کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزم کوایک غیرملکی آن لائن اکاؤنٹ سے بم بنانے کی ہدایات مل رہی تھیں۔ امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے اس کی نشاندہی کی ۔
امریکی ایجنسی نے پاکستانی حکام کومشتبہ سرگرمی کے بارے میں آگاہ کیا۔ حکومت کی جانب سے ایف آئی اے کوتحقیقات کا حکم دیاگیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ایف آئی اے نے 8گواہوں کی گواہی پیش کی، جس نے دھماکاخیز مواد بنانے کا علم حاصل کرنے میں عبداللہ کے ملوث ہونے کو ثابت کرنے میں مدد کی۔
تاہم پراسیکیوشن آن لائن مواد کے ساتھ اس کی مصروفیت کے علاوہ کوئی بھی اضافی الزامات ثابت کرنے سے قاصرتھا۔
جبکہ قانون ایسے جرائم کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سال تک کی سزا کی اجازت دیتا ہے۔ عدالت نے مجرم کی عمراور دیگر تخفیف کے عوامل کو مدنظر رکھا۔
عدالت نے ڈھائی سال قید کی سزا سنائی جسے اس نے ان حالات میں مناسب سمجھا۔
حنان عبداللہ جو کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ضمانت پر رہا تھا، کوفیصلے کے فوراً بعد حراست میں لے لیا گیا۔
بعدازاں ملزم کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔



















