بھارتی تجزیہ کار اور مصنف بھی مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے
بھارتی تجزیہ کار اور مصنف آوے شُکلا نے نریندر مودی کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مودی کے زیر اثر بھارت کو “ڈفر زون” (Duffer Zone) قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کو ایک ناقابلِ قبول قوم بنا دیا ہے، جہاں نفرت، تعصب اور ظلم کا راج ہے۔
آوے شُکلا کے مطابق، مودی سرکار بھارت کو شدت پسند ہندوتوا نظریے کا گڑھ بنا چکی ہے، جہاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت جمہوریت کا راگ الاپتے ہوئے عوام کی آزادیِ رائے کو دبانے میں مصروف ہے، اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو “غدار” قرار دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کو ایک اور دھچکہ، ٹرمپ نے بھارت میں بنے آئی فون پر 25 فیصد ٹیکس عائد کر دیا
آوے شُکلا نے بھارت میں عوام کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، اچھی تعلیم، صحت اور معقول روزگار سے محرومی کی نشاندہی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں زبان کی بنیاد پر نفرت اور تعصب قومی اتحاد کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کا حصہ بن چکی ہے۔
آوے شُکلا نے بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی کو مودی کی ناقص حکمرانی کی دلیل قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ بھارت ایک “ناقص جمہوریت” کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
پروگرام کے دوران کرن تھاپر نے آوے شُکلا سے سوال کیا: “کیا آپ واقعی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نااہل قوم ہیں؟” آوے شُکلا نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارت کو مودی کی انتہاپسندی کے زیر اثر “ڈفر زون” قرار دیا، جہاں تعصب، جہالت اور نفرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔
آوے شُکلا کی یہ تنقید بھارت میں جاری سیاسی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، اور مودی سرکار کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتی ہے۔



















