Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی میں سپر ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ

کراچی میں سپر ٹائیفائیڈ کے کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق غیر ضروری اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے شہریوں کی قوت مدافعت اور مزاحمتی خلیے کمزور ہو گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ سپر ٹائیفائیڈ پر اورل دوا بے اثر ہو چکی ہے، اب صرف مخصوص انجکشن   کے ذریعے اینٹی بایوٹکس مؤثر ثابت ہورہی ہیں۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ ایکس ڈی آر کی علامات میں شدید نوعیت کا بخار، دست، قبض اور جسمانی درد شامل ہیں، جبکہ عیدالاضحی کے بعد ان کیسز میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹائیفائیڈ کیوں ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہے؟

طبی ماہرین نے کہا کہ ٹائیفائیڈ آلودہ پانی، گندے برتنوں اور غیر معیاری کھانے سے پھیلنے والا مرض ہے، پاکستان میں اینٹی بایوٹکس کا غلط استعمال خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے، کئی لیبارٹریاں اور عطائی ڈاکٹر بغیر تحقیق کے غلط ٹیسٹ کی بنیاد پر دوا تجویز کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین نے یہ بھی کہا کہ سپر ٹائیفائیڈ کی درست تشخیص صرف بلڈ کلچر اور بون میرو ٹیسٹ سے ممکن ہے، بلڈ کلچر ٹیسٹ کی رپورٹ سات دن میں آتی ہے، جس کی بنیاد پر مؤثر دوا دی جا سکتی ہے، اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ٹائیفائیڈ ایکس ڈی آر معدے، جگر، دماغ اور ہڈی کے گودے کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ کچھ مریض اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ علاج ہی برداشت نہیں کرپاتے۔

طبی ماہرین نے مریضوں کو کھچڑی، دہی، ابلے ہوئے چاول، سبزیاں اور پھل جیسی نرم غذا دینے کی ہدایت  دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز نے حکومت اور فوڈ اتھارٹی سے کھانے پینے کے ٹھیلوں اور ہوٹلوں پر کڑی نگرانی کا مطالبہ کردیا، کھانے سے پہلے اور واش روم کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں۔

متعلقہ خبریں