جون 2025 میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی نے پاکستان میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر بلوچستان کی سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے۔
پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’علاقائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روک کر عالمی قانون کا نفاذ کرے۔
فوری اثرات
اس تنازع میں اب تک ایران میں 220 سے زائد افراد ہلاک اور ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کی جوابی کارروائی میں اسرائیل میں 20 سے زائد افراد مارے گئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
تاریخی پس منظر
جنوری 2024 میں ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایران نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف میزائل داغے۔ جواب میں پاکستان نے بھی ایرانی علاقے میں کارروائی کی، تاہم بعد میں دونوں ممالک نے تعلقات بحال کیے۔
سفارتی کوششیں
پاکستان کے نائب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمان کو بتایا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل مزید حملے نہ کرے۔ پاکستان دیگر ممالک کو بھی اس امن کوشش میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی امن کی کوششوں کو اس وقت فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھی بظاہر مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔
پاکستان کا محتاط رویہ
یونیورسٹی آف برمنگھم کے محقق عمر کریم کے مطابق، پاکستان اس تنازعے میں زیادہ گہرائی تک جانے سے گریز کرے گا کیونکہ وہ اس وقت امریکہ (جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے) کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا:
’’پاکستان نہ تو صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی خواہش کہ اس تنازع میں ثالثی کرے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ یہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے۔‘‘
بلوچستان میں خدشات
ماہرین کے مطابق، پاکستان کو سب سے بڑا خدشہ بلوچستان میں ممکنہ بدامنی سے ہے۔ یہ صوبہ معدنی دولت سے مالا مال ہے مگر تاریخی طور پر شورش زدہ رہا ہے، جہاں آزادی یا خودمختاری کے مطالبے پر کئی بغاوتیں ہو چکی ہیں، فتنہ الہندوستان ایران و پاکستان کی سرحد کے دونوں طرف سرگرم ہیں۔
تحقیق دان عبدالباسط نے بتایا کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو یہ عسکریت پسند ایران سے پاکستان میں پناہ لینے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کی روک تھام کے لیے سرحد بند کی گئی ہے۔
افغانستان جیسے بحران کا خدشہ
پاکستان کو خطرہ ہے کہ ایران کے ساتھ لمبی اور غیر محفوظ سرحد کے باعث، ماضی کی طرح ایران سے بھی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ملک میں داخل ہو سکتی ہے، جیسا کہ 1979 میں افغانستان کے بعد ہوا تھا۔
پاکستان نے 2023 میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی مہم بھی اسی سیکیورٹی خدشے کے تحت شروع کی تھی۔
اسرائیلی فضائی طاقت کا خوف
ایک اور خدشہ اسرائیل کی فضائی بالادستی کا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دعوے کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
پاکستان، جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، کو تشویش ہے کہ اگر اسرائیلی اثر و رسوخ ایران کی فضائی حدود تک پہنچ گیا تو یہ پاکستان کی مغربی سیکیورٹی کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔
مذہبی حساسیت اور داخلی مسائل
سلامتی کے تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق، پاکستان ماضی میں امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتا رہا ہے، مگر اس بار حالات مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ ملک میں 15 فیصد سے زائد شیعہ آبادی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ
’’ایران کے خلاف کھلی فوجی حمایت پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، جس سے حکومت گریز کرے گی۔‘‘



















