فیلڈمارشل کوٹرمپ کاظہرانہ پاکستانی بیانیے کی فتح ہے۔بلاول بھٹو زرداری وطن واپس پہنچ گئے ۔ انہوں نے کہاہے کہ کسی شکست خورہ ملک کے فیلڈمارشل کو امریکا میں ظہرانہ نہیں دیاجاتا۔
کراچی پہنچے پرانہوں نے کہاکہ عاصم منیرکوٹرمپ کاظہرانہ اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان نے بھارت کوشکست دیدی ہے۔
جیالوں سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں آپ نے اتنی محبت سے استقبال کیا،بلاول بھٹو نے کہاکہ صدرپاکستان،وزیراعظم کی اجازت سے میں نے پاکستان کی دنیا میں نمائندگی کی۔
انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کی جانب سے دنیا بھر میں امن کا پیغام لیکر گیا۔ ان کا کہناتھاکہ ہم نے ہر پلیٹ فارم پر کشمیر کی آواز اٹھائی۔
انہوں نے کہاکہ فیلڈمارشل کوٹرمپ کاظہرانہ پاکستانی بیانیے کی فتح ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر پاکستانی بیانیے کو تسلیم کرلیاگیاہے،یہ ہماری بڑی فتح ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو سمیت پیپلز پارٹی نے ہر سطح پر کشمیر کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہم نے اس کو منہ توڑ جواب دیا۔
بھارت نے پانی روکا تو پھر جنگ ہوگی اورتمام دریاؤں پرہمارا ہی کنٹرول ہوگا،چیئرمین پی پی
انہوں نے کہاکہ سندھ پر حملہ دراصل پیپلزپارٹی پر حملہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے پانی روکا تو پھر جنگ ہوگی اور تمام دریاؤں پر ہمارا کنٹرول ہوگا۔
بلاول نے کہاکہ بھارت نے دہشت گردانہ کارروائی کی ہم نے اس کے6جہازگرائے۔ ان کاکہناتھاکہ پہلے مودی سرکار اس بات کو نہیں مان رہی تھی۔
چیئرمین پی پی نے کہاکہ جب دنیا نے دیکھا پاکستان نے کس کےجہاز گرائے،ان کا کہناتھاکہ ایک مہینے بعد بھارت نے اس بات کو قبول کیا۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے یہ حملہ تو کردیا ہے، ہم نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ لڑا۔ بلاول بھٹونے کہاکہ ہم بھارت کو بتانا چاہتے ہیں سندھ عہد طاس معاہدہ کو ماننا پڑے گا۔
مزید براں ان کا کہناتھاکہ کشمیر سے کراچی تک دریا کا پانی آرہا ہے۔ چئیر مین پی پی نے کہاکہ پاکستان کا پانی بند کرنےکی بندکوشش کی تو اس کومنہ توڑ جواب دیا جائے گاْ۔
کراچی پہنچنے پر شاندار استقبال ،ایئرپورٹ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی
دریں اثنا بلاول بھٹو زرداری اپنا دورہ امریکا،برطانیہ اور یورپ مکمل کرکے پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیاگیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا اولڈ جناح ٹرمینل پر جلسہ گاہ میں کارکن بہت بڑی تعداد میں موجودتھے۔
واضح رہے کہ جیالوں کی بڑی تعداد میں خواتین ، بزرگ ، نوجوان سب شامل تھے۔



















