میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نیپا اور صفورہ واٹر ہائیڈرنٹس پر اچانک چھاپے مار کر پانی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
نیپا واٹر ہائیڈرنٹ پر چھاپے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہائیڈرنٹ غیر قانونی طور پر بند اوقات میں کام کر رہا تھا، جس پر فوری طور پر واٹر کارپوریشن کے تمام عملے کو معطل کر دیا گیا۔
مزید برآں، ہائیڈرنٹ کے کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ میئر کراچی نے اس موقع پر کہا کہ شہریوں کا پانی کسی بھی فرد یا گروہ کو ناجائز طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسی طرح، صفورہ واٹر ہائیڈرنٹ بھی بند اوقات میں پانی کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث پایا گیا۔ اس ہائیڈرنٹ پر بھی واٹر کارپوریشن کے تمام عملے کو معطل کر دیا گیا اور کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ پانی چوری اور غلط استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔
ان کے مطابق پانی کے غیر قانونی استعمال کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی اور سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ شہر کے شہریوں کو صاف اور منصفانہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر واٹر کارپوریشن کے سی ای او احمد علی صدیقی اور سی او او انجینئر اسداللہ خان بھی میئر کراچی کے ہمراہ موجود تھے۔



















