Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عام گھریلو برقی آلات سے کھربوں مضر ذرات خارج ہونے کا انکشاف

روزمرہ استعمال کے عام گھریلو برقی آلات گھروں کے اندر فضائی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزمرہ استعمال کے عام گھریلو برقی آلات گھروں کے اندر فضائی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی پُوسان نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق میں مختلف گھریلو آلات سے خارج ہونے والے نہایت باریک فضائی ذرات کی مقدار ناپی گئیں۔ تحقیق کے لیے ماہرین نے ایک خصوصی تجربہ گاہ قائم کی جہاں ٹوسٹر، ایئر فرائر اور ہیئر ڈرائر جیسے آلات کو آزمایا گیا۔

نتائج کے مطابق ان میں سے بیشتر آلات انتہائی باریک ذرات خارج کرتے ہیں جن کا حجم 100 نینو میٹر سے بھی کم ہوتا ہے، یعنی یہ ذرات اتنے چھوٹے ہیں کہ انسانی جسم میں گہرائی تک داخل ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں سب سے زیادہ خطرناک آلہ پاپ اپ ٹوسٹر قرار پایا جو بغیر روٹی کے بھی ایک منٹ میں تقریباً ایک کھرب 73 ارب ذرات خارج کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ذرات ناک کے قدرتی فلٹر سے بچ نکلتے ہیں اور سیدھے پھیپھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ بچوں میں سانس کی نالیاں نسبتاً چھوٹی ہونے کے باعث ان پر اس کے اثرات زیادہ شدید ہوسکتے ہیں۔

ماہر ماحولیات چانگ ہیوک کم کے مطابق گھریلو برقی آلات کے ڈیزائن میں تبدیلی اور عمر کے لحاظ سے اندرونی فضائی معیار کے اصول بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ آلات میں استعمال ہونے والی حرارتی کنڈلیاں اور موٹرز ان ذرات کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بغیر برش والی موٹر کے ہیئر ڈرائر نسبتاً کم ذرات خارج کرتے ہیں۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ان باریک ذرات میں تانبہ، لوہا، ایلومینیم، چاندی اور ٹائٹینیم جیسی دھاتیں بھی پائی گئیں جو جسم میں سوزش اور خلیاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

اگرچہ اس تحقیق میں براہ راست صحت پر اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا تاہم ماضی کی تحقیقات ان ذرات کو دمہ، دل کے امراض، بلند فشار خون، ذیابیطس اور کینسر سے جوڑ چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں میں فضائی آلودگی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکی ہے، اس لیے گھریلو آلات کے معیار اور ضوابط کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صحت مند اندرونی ماحول یقینی بنایا جاسکے۔