بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ ہفتے سے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر مزید سبسڈی دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت پر واضح کیا ہے کہ قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی پالیسی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
اس پر حکومت نے عالمی نرخوں کے مطابق قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے قیمتیں برقرار رکھنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے ترقیاتی بجٹ سے فنڈز فراہم کیے گئے۔ تاہم یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے پیٹرول پر تقریباً 95 روپے اور ڈیزل پر 200 روپے سے زائد اضافے کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے اور آئی ایم ایف کے مطالبات کے پیش نظر قیمتوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے نکالی گئی رقم میں سے 56 ارب روپے پہلے ہی سبسڈی کی مد میں خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مزید سبسڈی دینے کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔
اگر مزید فنڈز استعمال کیے گئے تو ممکنہ اضافے کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، تاہم موجودہ حالات میں عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے لیے تیار رہنے کا اشارہ دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت 106 سے 108 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان میں قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔



















