Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آرٹیمیس دوم مشن مکمل؛ زمین پر واپسی کی تیاری

آرٹیمس دوم کے یہ چاروں خلاباز گزشتہ ہفتے فلوریڈا سے روانہ ہوئے تھے اور اورائن کیپسول میں سفر کر رہے تھے

ناسا کے آرٹیمیس دوم نے اپنا مشن کامیابی سے مکمل کر لیا اور اب خلاباز فائر بال کی طرح دوبارہ زمین کی  فضا میں داخل کی تیاری کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ناسا کے آرٹیمس دوم مشن میں شامل چاروں خلازوں نے بدھ کے روز خلا سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب وہ چاند کے تاریک مدار میں اپنا تاریخی مشن مکمل کرنے کے بعد فائر بال کی طرح زمین کی فضا میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ آرٹیمس دوم کے یہ چاروں خلاباز گزشتہ ہفتے فلوریڈا سے روانہ ہوئے تھے اور اورائن کیپسول میں سفر کر رہے تھے چاند تک پہنچنے کے بعد اب واپسی کے سفر پر ہے اور جمعہ کی شام جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں اترنے کی توقع ہے۔

 یہ خلا باز پہلی بارچاند کے تاریک حصے سے گزرے اور انسانی تاریخ میں زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے کا ریکارڈ قائم کیا۔

زمین پر واپسی کے دوران اس کیپسول کی رفتار تقریباً 23,839 میل فی گھنٹہ (38,365 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ جائے گی واپسی کا یہ سفر مشن کا ایک نہایت پرخطر مرحلہ ہوگا، جس میں اورائن کے ہیٹ شیلڈ کو شدید گرمی اور رگڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آرٹیمیس دوم مشن کے دوران لی گئی چاند اور زمین کی خوبصورت تصاویر

مشن کے پائلٹ وکٹر گلوور نے کہا میں نے اس داخلے کے مرحلے کے بارے میں اس وقت سے سوچنا شروع کر دیا تھا جب ہمیں 3 اپریل 2023 کو اس مشن کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سی تصاویر اور کہانیاں  اورہم نے جو کچھ تجربہ کیا ہے اسے مکمل طور پر سمجھنا باقی ہے۔ اگلے دو دن بھی اہم ہیں اور فائر بال کی طرح زمین کے ماحول میں داخل ہونا ایک اہم تجربہ ہوگا۔

گلوور کے ساتھ ناسا کے تین خلا باز ریڈ وائزمین، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ ٹیم آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد 2028 تک انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا، چین سے پہلے وہاں پہنچنا اور آئندہ دہائی میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا ہے تاکہ مریخ کے مستقبل کے مشنز کی راہ ہموار ہو سکے۔

کرسٹینا کوچ نے اس مشن کو ایک ریلے ریس سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا
ہم نے علامتی طور پر بیٹن بھی خریدے ہیں تاکہ انہیں اگلے عملے کے حوالے کیا جا سکے ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ آنے والے عملے کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔

اگلا مشن آرٹیمس سوم ہوگا جس میں زمین کے قریب مدار میں اورائن کیپسول اور چاند پر اترنے والے لینڈرز کے درمیان ڈاکنگ ٹیسٹ کیا جائے گا۔

آرٹیمس چہارم جو 2028 کے لیے متوقع ہے پہلا ایسا مشن ہوگا جس میں 1972 کے بعد دوبارہ انسان چاند پر قدم رکھیں گے۔

زمین پر ناسا کے مشن کنٹرول سینٹر ہیوسٹن میں درجنوں سائنسدان مسلسل خلا بازوں کی گفتگو سن رہے ہیں نوٹس لے رہے ہیں اور ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
خلا بازوں کی جمعہ کو تقریباً رات 8 بجے زمین پر واپسی متوقع ہے، جب وہ سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب سمندر میں اتریں گے اس طرح تقریباً 10 دن سے جاری مشن کا اختتام ہوگا۔

پیر کے روز عملے نے زمین سے تقریباً 252,000 میل دور جا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جو 56 سال پرانے اپالو 13 مشن کے ریکارڈ سے تقریباً 4,000 میل زیادہ ہے۔

مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ہر خلا باز نے اپنے خاندان سے مختصر گفتگو کی
اپنے ساتھیوں کو ہنستے، روتے اور اپنے خاندانوں سے محبت کا اظہار کرتے سننا ایک بہت خوبصورت تجربہ تھا۔

پیر کے روز جب عملہ چاند کے قریب پہنچا تو جیریمی ہینسن نے مشورہ دیا کہ ایک نئے گڑھے (کریٹر) کا نام وائزمین کی مرحوم اہلیہ کیرول کے نام پر رکھا جائے جو 2020 میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

وائزمین نے کہا یہ میرے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا۔ میں نے کہا بالکل میں یہ چاہوں گا لیکن میں اس پر بات نہیں کر سکتا یہ لمحہ مشن کے دوران نہایت جذباتی تھا اور ناسا کے عملے پر بھی گہرا اثر چھوڑ گیا۔

چاند کے قریب سے گزرنے کے دوران خلا بازوں نے تقریباً 4,000 میل کی بلندی سے چاند کا مشاہدہ کیا اور اہم سائنسی معلومات فراہم کیں۔

سائنسدانوں کے مطابق آرٹیمس دوم مشن نظامِ شمسی کی تشکیل کے راز سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ کرسٹینا کوچ کے مطابق چاند ہمارے نظامِ شمسی کی تشکیل کا گواہ ہے۔