اسلام آباد پراسیس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں جب کہ غیر ملکی وفود کی آمد بھی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کے لیے اینٹی رائٹ کٹس کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
شہر میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پنجاب پولیس کے 7 ہزار اہلکار بھی شامل ہیں جو اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ پاک رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے بھی سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وی آئی پی روٹس پر گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے اور پنجاب پولیس کو بہتر رابطے کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانب سے وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔
مزید ہدایات کے مطابق روٹس پر ڈیوٹی دینے والے کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کو بغیر سروس کارڈ کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ شہریوں کی سہولت کے پیش نظر ٹریفک پولیس کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔
شہر بھر بالخصوص وی آئی پی روٹس اور اطراف کے علاقوں میں سڑکوں کی مرمت کا کام مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ اسٹریٹ لائٹس کو بھی فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنائے جا سکیں۔

















