ملک بھر کے چھوٹے سولر صارفین کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں حکومت کی جانب سے 25 کلوواٹ تک کے صارفین پر عائد فیس اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے اس حوالے سے ایک اہم مراسلہ جاری کرتے ہوئے نیپرا کو پالیسی پر نظرثانی کے لیے باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اس خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چھوٹے سولر صارفین پر فیس کا بوجھ ختم کیا جائے اور لائسنس حاصل کرنے کی شرط بھی ختم کی جائے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں آسانی پیدا ہو سکے۔
پاور ڈویژن نے اپنے مراسلے میں یہ بھی تجویز دی ہے کہ ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں) کو دوبارہ اختیارات دیے جائیں جبکہ مجوزہ نئے ریگولیشنز پر بعض تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ فیس اور پیچیدہ قواعد و ضوابط چھوٹے صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور یہ پالیسی سولر انرجی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بن سکتی ہے اس لیے ایک سادہ اور سہل پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت کی سطح پر اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور اگر سفارشات منظور ہو گئیں تو چھوٹے سولر صارفین کو نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔



















