اسلام آباد: پاکستان میں پروازوں کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہوائی جہازوں میں سیٹلائٹ کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن سروسز فراہم کرنے کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے پی ٹی اے نے باقاعدہ لائسنسنگ فریم ورک تیار کیا ہے۔
متعلقہ فریقین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 31 مئی تک اپنی تجاویز اور سفارشات پی ٹی اے کو جمع کرائیں تاکہ حتمی پالیسی تشکیل دی جاسکے۔
فریم ورک کے مطابق دورانِ پرواز موبائل اور انٹرنیٹ سروسز 3000 میٹر کی بلندی پر مشروط طور پر فعال ہوں گی جب کہ سروس شروع کرنے سے قبل کمپنیوں کو پی ٹی اے سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
لائسنس کی مدت 10 سال رکھی گئی ہے جس میں تجدید کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جب کہ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو 12 ماہ کے اندر سروس کا آغاز کرنا لازم ہوگا۔
پالیسی کے تحت ڈیٹا اسٹوریج اور پروسیسنگ پاکستان کے اندر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور سیکیورٹی و پرائیویسی سے متعلق سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔
مزید برآں سیٹلائٹ آپریٹرز کے لیے رجسٹریشن ضروری ہوگی اور انہیں بین الاقوامی بینڈوڈتھ مقامی ایل ڈی آئی آپریٹرز سے حاصل کرنا ہوگی۔
فی الحال اسپیکٹرم فیس لاگو نہیں کی گئی تاہم مستقبل میں اس پر نظرثانی کی جاسکتی ہے جب کہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔



















