چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ الحمد اللہ ! آج پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے دشمن جان لے! پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہونگے
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکہ حق کی پہلی یادگاری تقریب سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کادن ہم سب کے لیے باعث افتخارہے ایک سال قبل معرکہ حق میں پاکستان کواللہ تعالیٰ نے کامیابی دی دشمن نے ہمارے قومی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کا ہماری فورسز نے منہ توڑ جواب دیا معرکۂ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو ایک بے مثال کامیابی ملی۔
،فیلڈ مارشل نے کہا کہ معرکۂ حق دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکۂ تھا ،جس میں حق فتحیاب اور باطل ہزیمت سے دو چار ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو عسکری جارحیت اور سفارتی تنہائی کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے اس کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جسے پاکستان کبھی کامیاب نہیں ہونے دیگا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ میں معرکۂ حق کے تمام شہداء اورغازیوں بالخصوص شہید ہونے والی نہتی عورتوں، بوڑھوں اورمعصوم بچوں کو پوری قوم اور افواج پاکستان کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں ہم اپنے شہداء کی قربانی کو امانت ، اپنی طاقت کو ذمہ داری اور اپنی کامیابی کو خدائے بزرگ برتر کا احسان سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اور قومی قیادت کا پیغام ہے کہ ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہندوستان کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس کی قیمت وہ آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا فتح میزائلوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ الحمد اللہ ! آج پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے دشمن جان لے ! پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہونگے۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ عصرِحاضراور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی جس میں دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں ،ڈرونز ،سائبراور آرٹیفشل انٹیلی جنس کا استعمال ہوگا افواج پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کردیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ آج پاکستان اپنی موثر ، ذمہ دارانہ اور غیر جانبدار سفارتی کاری کے ذریعے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ کو ناممکن تصور کرتے ہوئے بھارت ایک بار پھر دہشتگردی کی گھناونی روش کا سہارا لے رہا ہے افغانستان اپنی سر زمین پر دہشت گردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے غیور عوام ، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام باہمت اور غیور اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لینگے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی ہم ہر محاذ پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے مزید کہا کہ ہماری منزل وہ مقام ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید کا استعارہ ہے اور اس کی مسلح افواج منظم اور ہر لمحہ تیار ہیں پاکستانی قوم ہماری طاقت ہے اور ہم قوم کی قوت ہیں پاکستان کا مستقل انشاء اللہ بہت روشن اور تابناک ہے جب حق اور باطل مقابل ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور انشاءاللہ آنے والے وقتوں تک ناقابلِ تسخیر رہے گا۔
قبل ازیں معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب معقد کی گئی جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور پھول رکھے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قوم کی حمایت سے مسلح افواج تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں، معرکہ حق میں کامیابی مسلح افواج کی تیاری، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے، اس کامیابی نے مسلح افواج پر عوام کے اعتماد کو فیصلہ کن طور پر مضبوط کیا۔



















