کراچی میں مبینہ کوکین نیٹ ورک سے متعلق کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی سے جاری تفتیش کے دوران گینگ میں شامل اہم افراد کی تصاویر اور تفصیلات بول نیوز سامنے لے آیا جب کہ رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے بعض اہلکاروں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق نیٹ ورک میں شامل محمد ناصر، صابراں بی بی اور عین اللہ کو انمول عرف پنکی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
دستاویزات کے مطابق عین اللہ کا آبائی تعلق کوئٹہ جب کہ صابراں بی بی کا تعلق اوکاڑہ سے بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منشیات سے متعلق سرکاری اداروں کے بعض اہلکار مبینہ طور پر اس نیٹ ورک سے رابطے میں رہے اور مختلف مواقع پر ملزمان سے کروڑوں روپے رشوت لینے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
تفتیشی دستاویزات کے مطابق ایک افسر پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ملزمان کو متعدد بار گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طور پر رشوت لے کر چھوڑ دیا جاتا رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مد میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اپنے سابق شوہر کے بعض خفیہ اداروں سے تعلقات کا بھی اعتراف کیا جب کہ ایک شخص کو کراچی کا بدنامِ زمانہ کوکین ڈیلر قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں سندھ کے مختلف تھانوں کو مبینہ طور پر رشوت دیے جانے کا الزام بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی معلومات اور الزامات کی مختلف پہلوؤں سے جانچ جاری ہے جب کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔



















