بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان کے عوام یا ان کے حقیقی مسائل کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ تنظیم صوبے میں موجود شدید پسماندگی اور کثیر جہتی غربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالخصوص 15 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کو پروپیگنڈے، خاندانوں سے دوری اور تشدد کی ترغیب کے ذریعے اپنی صفوں میں شامل کرتی ہے جب کہ بعد ازاں انہیں مجید بریگیڈ کے ذریعے خودکش کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2024 کے دوران بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں نے 938 حملے کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ تھے جب کہ ان حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 80 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار دو سے تجاوز کرگئی۔ ان حملوں میں سے سیکڑوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 300 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ مجید بریگیڈ نے ایک سال کے دوران چھ بڑی خودکش کارروائیاں بھی کیں۔
انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کو ایک منظم دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ کسی حقیقی عوامی تحریک کے بجائے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کلبھوشن یادیو کیس سمیت مختلف شواہد اس تنظیم کی بیرونی سرپرستی کی نشاندہی کرتے ہیں جب کہ اس کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ روابط بھی بڑھ رہے ہیں۔
سینیٹر کہتے ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے معاشی اور تزویراتی مفادات کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ بلوچستان میں موجود تانبے، سونے اور نایاب معدنی وسائل، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے اور خطے کے بنیادی ڈھانچے پر حملے عالمی ترقیاتی اہداف کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرچکے ہیں جب کہ پاکستان اور چین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز تکنیکی بنیادوں پر مسترد کردی گئی تھی۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ فوری طور پر بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے تاکہ اس کی مالی معاونت، قیادت کی نقل و حرکت اور بین الاقوامی سرگرمیوں کو محدود کیا جاسکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کے ساتھ ساتھ بہتر طرز حکمرانی، سیاسی شمولیت، معاشی ترقی اور تاریخی شکایات کے حل کے لیے بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جاسکے۔



















