آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جن کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے کئی حلقوں میں واضح برتری حاصل کرلی ہے جبکہ پیپلز پارٹی بھی بعض نشستوں پر مقابلے میں موجود ہے۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے 8 حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ پولنگ کا عمل شام 6 بجے تک جاری رہا، تاہم حلقہ ایل اے 27 میں خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث انتخابی عملہ اور پولنگ کا سامان مقررہ مقام تک نہ پہنچ سکا، جس کے باعث تمام 196 پولنگ اسٹیشنز پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔
پولنگ کے اختتام کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آنے لگے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 2 حلقوں میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ 13 نشستوں پر امیدواروں کو برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 5 حلقوں میں آگے ہے۔
مہاجرین نشستوں کے غیر حتمی نتائج
غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) 4 حلقوں پر کامیاب اور 11پر آگے ہے جبکہ پیپلزپارٹی ایک حلقے سے کامیاب ہوئی اور 4 حلقوں میں برتری حاصل ہے۔
ایل اے 34 جموں 1:
131 پولنگ اسٹیشنز میں سے 51 کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ناصر حسین ڈار 1690 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے محمد سعود مختار 741 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 35 جموں 2:
142 پولنگ اسٹیشنز میں سے 100 کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد اسماعیل 18788 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار سردار محمد غیاث 5041 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 36 جموں 3:
50 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد احسن رضا 10002 ووٹ لے کر پہلے جبکہ پیپلز پارٹی کے احسن اسماعیل 4756 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 37 جموں 4:
185 میں سے 113 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مریم جاوید 17989 ووٹ لے کر سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار عثمان علیم 13600 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 38 جموں 5:
48 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ذیشان علی 5483 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ مسلم لیگ آزاد جموں و کشمیر کے محمد اکبر چوہدری 4935 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 39 جموں 6:
32 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راجہ محمد صدیق 2328 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری فخر زمان 650 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 40 کشمیر ویلی 1:
23 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے عامر عبدالغفار 1178 ووٹ لے کر پہلے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد نعیم خان 65 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 41 کشمیر ویلی 2:
19 میں سے 13 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد عامر شاہ 984 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار صباء دیوان 588 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 42 کشمیر ویلی 3:
12 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سید شوکت علی شاہ 1319 ووٹ لے کر پہلے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد عاصم شریف 682 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 43 کشمیر ویلی 4:
تمام 10 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد یاسین لون 1276 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے جاوید بٹ 563 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 44 کشمیر ویلی 5:
تمام 27 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد احمد رضا قادری 1700 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی مہرالنساء 650 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔
ایل اے 45 کشمیر ویلی 6:
41 میں سے 15 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے عبدالماجد خان 2444 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے خواجہ محمد دلاور 562 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
الیکشن حکام کے مطابق یہ نتائج غیر حتمی اور غیر سرکاری ہیں، حتمی نتائج کا اعلان مکمل انتخابی عمل اور سرکاری تصدیق کے بعد کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جبکہ ووٹرز کی تعداد کے پیش نظر پولنگ کا عمل شام 6 بجے تک کر دیا گیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ مظفرآباد ڈویژن کی نشستوں پر 208 جبکہ مہاجرین کی نشستوں پر 143 امیدوار میدان میں ہیں۔
حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں 12 لاکھ سے زائد ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن کیلئے 1483 پولنگ اسٹیشنز اور 2219 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے تین حلقوں ایل اے 28، ایل اے 29 اور ایل اے 31 کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی پلان کے تحت انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر 8، حساس پولنگ اسٹیشنز پر 6 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر 4 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی سمیت 25 سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ضلع مظفرآباد کی 5 نشستوں کیلئے 4 لاکھ 80 ہزار 219، ضلع نیلم کی 2 نشستوں کیلئے ایک لاکھ 51 ہزار 911 جبکہ جہلم ویلی کی 2 نشستوں کیلئے ایک لاکھ 77 ہزار 500 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور قومی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بہتر قیادت کے انتخاب میں اپنا کردار ادا کریں۔ شفاف، پرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ایل اے 27 مظفرآباد ون میں پولنگ ملتوی
پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے کہا ہے کہ پورے حلقہ انتخاب کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز پر بیک وقت پولنگ ملتوی کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
انچارج الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ ایل اے-27 مظفرآباد ون کی پولنگ ملتوی کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے حلقہ انتخاب کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز کے باہر نہ بیک وقت درخت گر سکتے ہیں، نہ ہر مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے اور نہ ہی پورے حلقے کو یکساں طور پر ناقابل رسائی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بنیاد پر پورے حلقے کے عوام کو اچانک حق رائے دہی سے محروم کر دینا کسی طور قابل فہم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عملہ اور انتخابی سامان پولنگ کے روز نہیں بلکہ ایک رات پہلے ہی متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر موسمی حالات واقعی اس قدر خراب تھے کہ پولنگ کا انعقاد ممکن نہیں تھا تو الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور عوام کو بروقت اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور پیشگی اطلاع کیوں جاری نہیں کی؟
سردار عبدالشکور نے کہا کہ اگر چند مخصوص علاقوں میں سڑکیں بند تھیں تو ان پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے الگ فیصلہ کیا جا سکتا تھا لیکن پورے حلقے کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ملتوی کرنا ایک غیر معمولی اور ناقابل فہم فیصلہ ہے جس سے عوام میں شدید شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اس فیصلے کی مکمل تفصیلات، متاثرہ سڑکوں، متاثرہ پولنگ اسٹیشنز اور انتظامی اقدامات کی مکمل رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پورے حلقے میں پولنگ ملتوی کرنے کی ناگزیر ضرورت کیوں پیش آئی۔ ووٹ کا حق عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے اور اسے غیر معمولی اور ناقابل تردید وجوہات کے بغیر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ملک بھر میں کشمیری مہاجریں کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ
ملک بھر میں کشمیری مہاجریں کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ جاری ہے۔ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، پسرور، نارووال، قصور، علی پور چٹھہ، منڈی بہاؤ الدین، فیروزوالا میں بھی ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جبکہ ملتان، بہاولنگر اور لاڑکانہ میں بھی انتخابی میدان سج گیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی جس کیلئے بھی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔



















