جرمن ڈیزائنر سائمن ویکرٹ نے ایک ایسی شرٹ تیار کی ہے جو دیکھنے میں انتہائی رنگین اور عجیب و غریب لگتی ہے، لیکن اس کا مقصد صرف فیشن نہیں بلکہ اے آئی سے چلنے والے نگرانی کے کیمروں کو دھوکا دینا ہے۔
اس شرٹ کا نام ڈیجیٹل کیموفلاج رکھا گیا ہے اس پر بنا ہوا بے ترتیب اور تجریدی ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اے آئی کیمرے شرٹ پہننے والے شخص کو آسانی سے انسان کے طور پر شناخت نہ کر سکیں۔
سائمن ویکرٹ کے مطابق اے آئی کیمرے انسان کو ہماری طرح نہیں دیکھتے۔ وہ مختلف شکلوں، کناروں، رنگوں اور جسم کے حصوں کے مخصوص نمونوں کی مدد سے اندازہ لگاتے ہیں کہ سامنے موجود شخص انسان ہے یا نہیں۔

اسی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے شرٹ کا ڈیزائن تیار کیا گیا۔ اس کے پیٹرن کو بار بار اے آئی سسٹم کے سامنے آزمایا گیا اور ہر بار اس میں تبدیلی کی گئی، یہاں تک کہ کیمرے کے لیے انسان کو پہچاننا مشکل ہوگیا۔ اس طریقے کو ایڈورسریئل لوپ کہا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شرٹ کا ڈیزائن تیار کرنے میں بھی اے آئی کی مدد لی گئی۔ یعنی جس ٹیکنالوجی سے انسان کو پہچانا جاتا ہے، اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ڈیزائن بنایا گیا جو اسے انسان کو پہچاننے سے روک سکے۔
انسانی آنکھ کو یہ شرٹ بہت نمایاں اور تقریباً بدصورت نظر آتی ہے، لیکن تجربات میں شامل بعض اے آئی سسٹمز کے لیے اس شرٹ کو پہننے والے شخص کو انسان کے طور پر شناخت کرنا مشکل ہوگیا۔
سادہ الفاظ میں، یہ شرٹ انسانوں کو چھپانے کے بجائے اے آئی کی نظروں میں انہیں ’غائب‘ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔




















